پسنی ماہی گیروں کے حقوق پر بیوپاریوں کیخلاف خواتین کی احتجاجی ریل

پسنی (بیورو رپورٹ/نامہ نگار) خواتین کی ماہی گیروں کے حقوق پر بیوپاریوں کے خلاف احتجاجی ریلی،احتجاجی ریلی میں درجنوں خواتین نے شرکت کی، ریلی جڈی ہوٹل چوک سے شروع ہو کر پریس کلب کے سامنے جلسے کی شکل اختیار کر لی، جہاں خواتین نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا سمندر ہمارے آباؤ اجداد کا ذریعہ معاش ہے جبکہ آج مقامی بیوپاری کمیشن کے نام ہمارے باپ بھائیوں کے روزگار پر قدغن لگا رہے ہیں اور غیر مقامیوں کو مسلط کرکے کمیشن کے نام پر ماہی گیروں پر اپنی اجارہ داری قائم کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ بیوپاری اپنا کاروبار سنبھال لیں ماہی گیر اپناسربراہ خود منتخب کریں گے اور کسی کو اپنے بھائیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے انہوں نے کہا کہ کاروبار کرنے کے لیے ہر کسی کو اجازت ہے لیکن ماہی گیروں کی استحصال قبول نہیں ہے انہوں نے کہا کہ آج سمندر میں ٹرالر مافیا کا راج ہے جنہوں نے سمندر کو تباہ کر دیا ہے جن کی وجہ سے آج ماہی گیر کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اس موقع پر ماہی گیروں نے خواتین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پسنی کے بیوپاری دیگر ساحلی علاقوں کی نسبت ریٹ کم دے رہے ہیں اور ان میں سے اپنا کمیشن کاٹ رہے ہیں اوردوسری طرف پسنی کے فیکٹری مالکان کی جانب سے مقامی ماہی گیروں کی استحصال ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ بیوپاریوں نے غیر مقامی ماہی گیروں کو لا کر انہیں لاکھوں روپے کا مقروض کر دیا ہے اور اپنی من مانی کرتے ہیں اور جب چاہیں مچھلیوں کے اپنے من پسند کم ریٹ مختص کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر بیوپاریوں کو دوسرے علاقوں کے مطابق ریٹ ادا نہیں کر سکتے تو وہ اپنا کمیشن لے کر ہم اپنے مچھلیوں کو دوسرے ساحلی علاقوں کے کمپنیوں میں منتقل کر لیں گے انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات منظور نہیں کئے گئے تو ان سرمایہ دارانہ نظام کا مقابلہ کریں گے اور کشتیوں کو کھڑی کرکے ہڑتال کر لیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں