پی آئی اے کا فضائی میزبان کینیڈا پہنچنے کے بعد لاپتہ

اسلا م آباد: پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائنز کا فضائی میزبان کینیڈا کے شہر ٹورنٹو پہنچنے کے بعد لاپتہ ہو گیا۔ اسلام آباد سے مسافروں کو لے کر کینیڈا کے شہر ٹورنٹو پہنچنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 781 کا وقار احمد جدون نامی فلائٹ اسٹیورڈ اس ہوٹل سے غائب ہوا جہاں وہ ٹھہرا ہوا تھا۔فضائی میزبان دیگر عملے کے ساتھ ہوٹل میں رہائش پذیر تھا جس کے لاپتہ ہونے کی اطلاع اس وقت سامنے آئی جب ائیرلائن کے سینئر سٹاف نے اس وقت رابطہ کرنے کی کوشش کی۔وقار جدون کے غائب ہونے کا علم واپسی کی پرواز پر نہ پہنچنے سے ہوا۔وقار جدون کو 23 جنوری کی ٹورنٹو سے اسلام آباد کی پرواز پر بطور فلائٹ اسٹیورڈ ڈیوٹی انجام دینا تھی۔فضائی میزبان کی عدم موجودگی کے بارے میں ائیر لائن ہیڈ آفس حکام کو آگاہ کر دیا گیا۔ٹورنٹو میں پی آئی اے حکام نے وقار جدون کی گمشدگی بارے میں مقامی حکام کو بھی اطلاع دی۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ لاپتہ فضائی میزبان مبینہ طور پر امیگریشن حصول کی غرض سے غائب ہوا۔ترجمان پی آئی سے کا کہنا ہے کہ پولیس رپورٹ کے بعد وقار جدون کے خلاف انضباطی کارروائی کا آغاز کر دیا جائے گا۔ترجمان نے مزید کہا کہ اس کے گھر والوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے،وقار جدون کے واجبات ضبطگی کے ساتھ اسے ملازمت سے بھی برخاست کر دیا جائے گا۔خیال رہے کہ گذشتہ سال بھی پاکستان کی قومی ائیرلائن کے فضائی میزبان کی کینیڈا میں گمشدگی کا انکشاف ہوا تھا۔ رمضان گل نامی فضائی میزبان اسلام آباد سے پی آئی اے کی پرواز پی کے798 سے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو پہنچا تھا۔ بعد ازاں پی آئی اے کا ملازم کینیڈا جاکر پراسرار طور پر لاپتہ ہوگیا۔ کینیڈا کے اسٹیشن منیجر نے ٹورنٹو ایئر پورٹ اتھارٹی کو رمضان گل کے پراسرار طور پر لاپتہ ہو جانے کی اطلاع دی جس کے بعد پی آئی اے حکام سے رابطہ کیا گیا۔آج سے 2 برس قبل پی آئی اے کی ایک ائیرہوسٹس بھی کینیڈا میں لاپتہ ہوگئی تھی۔ فریحہ مختار نامی ائیر ہوسٹس نے کینیڈا میں سیاسی پناہ لے لی تھی۔پی آئی اے ائیر ہوسٹس کی انٹرنیشنل فلائٹس پر پابندی تھی تاہم انہوں نے مبینہ طور پر سیاسی اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھایا،کینیڈا پہنچ کر 11 ستمبر 2018 کو سیاسی پناہ لے لی تھی۔ لاہور سے تعلق رکھنے و الی فریحہ مختار نے ٹورنٹو جانے والی فلائٹ میں ڈیوٹی کیلئے خود کو کراچی بیسڈ ظاہر کیا اور پھر پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے کینیڈا پہنچ کر غائب ہوگئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں