سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ کی5 سے زائد شقیں واپس لینےکا فیصلہ

کراچی:سندھ حکومت نے لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ کی پانچ سے زائد شقیں واپس لینے کا فیصلہ کرليا ہے اور اس سلسلے ميں آئندہ ہفتے سندھ اسمبلی اجلاس بلائے جانے کا امکان ہے۔سندھ اسمبلی اجلاس میں شقیں واپس لینے کی تحریک پیش کی جائے گی، محکمہ قانون سندھ نے ترمیمی مسودہ پر کام شروع کر دیا ہے۔دوسری جانب، بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے سندھ میں اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج بھی جاری ہے۔

جماعت اسلامی کے دھرنے کے بعد پاک سرزمین پارٹی نے بھی گزشتہ روز فوارا چوک پر دھرنا دے دیا ہے جبکہ جماعت اسلامی کے دھرنے کے دوران ہی ایم کیو ایم پاکستان نے پریس کلب کے باہر احتجاج کیا تھا۔واضح رہے کہ سندھ ترمیمی بلدیاتی قانون 2021ء میں تبدیلی کے لیے جماعتِ اسلامی اور حکومت سندھ کے درمیان 27جنوری کی شب معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی کے باہر 27 روز تک جاری رہنے والا دھرنا ختم کر دیا تھا۔

معاہدے کے چیدہ چیدہ نکات درجہ ذیل ہیں صحت سے متعلق ادارے دوبارہ بلدیاتی اداروں کو دے دئیے جائیں گے۔صوبائی حکومت یو سی کو ماہانہ اور سالانہ فنڈز کی فراہمی آبادی کی بنیاد پر ہوگی۔تحریری معاہدے کے مطابق تعلیم سے متعلق ادارے بلدیاتی اداروں کے سپرد کر دیئے جائیں گے۔صوبائی فنانس کمیشن بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات سنبھالنے کے بعد دیا جائے گا۔موٹر وہیکل ٹیکس سے حاصل رقم شہری حکومت کے حصے کے مطابق ادا کی جائے گی۔

بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ڈیولپمنٹ اتھارٹیز میں میئر اور چیرمینز کو اختیارات دئیے جائیں گے۔سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میئر کراچی کے ماتحت ہوں گے۔معاہدے کے تحت کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دلانے کیلئے سندھ حکومت بلدیہ عظمیٰ کی بھرپور مدد کرے گی۔کراچی میں اضافی پانی کے منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے گا۔جماعت اسلامی کے مطالبہ پر سندھ حکومت طلبہ یونین کے کو بحال کرے گی۔جن نکات پر اتفاق نہیں ہوا اس کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں