امریکہ کے قومی قرضے پہلی بار 300 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئے

واشنگٹن:امریکہ کے قومی قرضے پہلی بار 300 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں،ایسے موقع پر جب فیڈرل ریزرو افراط زر پر قابو پانے کے لیے شرح سود بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے مستقبل کے مالی استحکام کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔محکمہ خزانہ کی جانب سے یومیہ بنیاد پر جاری ہونے والے بیان کے مطابق، حکومتی واجب الادا قرضوں کا حجم پیر کو 300کھرب ڈالرسے تجاوز کر گیا ہے جن میں 235 کھرب ڈالر کے قرضے سرکاری اور 65 کھرب ڈالر کا قرضہ بین الحکومتی ہولڈنگز کے ذمہ ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں قومی قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس کی ایک وجہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیکسوں میں کی جانے والی بڑی کٹوتیاں اور کوویڈ-19 پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر کیے جانے والیسرکاری اخراجات ہیں۔پیٹر جی پیٹرسن فانڈیشن کے سی ای او مائیکل اے پیٹرسن کا کہنا ہے کہ 300 کھرب ڈالر کے قرض کا سنگ میل ملک کی مستقبل کی معاشی صورتحال، جنسی مساوات اور دنیا میں اس کے کردار کے بارے میں ہم سب کے لیے ایک خطرے کی نشانی ہونا چاہئے۔پیٹرسن نے ایک بیان میں کہا کہ اس نوبت تک ہم کیسے پہنچے ہیں یہ دونوں اطراف سے بار بار دہرائے جانے والے مالیاتی غیر ذمہ دارانہ ابواب کی ایک طویل داستان ہے۔ واشنگٹن میں رہنماں نے کئی دہائیوں کے دوران غلط فیصلے کیے ہیں، وقتا فوقتا اجتماعی مستقبل کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی پسند کی نئی ٹیکس کٹوتیاں کی گئیں یا اخراجاتی پروگرام لائے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں