جسٹس قاضی فائزعیسی کیس؛ نظرثانی خارج کرنیوالے 4 ججز کا اختلافی نوٹ جاری

اسلام آباد:جسٹس قاضی فائزعیسی کی نظرثانی خارج کرنے والے سپریم کورٹ کے 4 ججز کا اختلافی نوٹ جاری کردیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 100 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے تحریرکیا، دیگر ججزمیں جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی محمد امین شامل ہیں، 13 صفحات پر مشتمل جسٹس منیب اختر کااضافی نوٹ بھی تفصیلی فیصلے کا حصہ ہے، اقلیتی فیصلے میں قرآنی آیات کا بھی حوالہ دیا گیا۔اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک جج بھی اپنی غلطی اورکوتاہی کیلئے قابل احتساب ہوتا ہے، سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس قاضی فائز کے خلاف شکایت آئی، مواد پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کی جانب سے وضاحت دینا لازمی ہے، ایک جج اورعدلیہ کی ساکھ بچانے کیلئے مواد پر وضاحت دینا نہایت ضروری ہے، آئین کے آرٹیکل184/3کا اطلاق نہ ہونے کی دلیل میں بھی وزن نہیں ہے، جسٹس فائزعیسی اپنے اہل وعیال کے اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنے کے پابند ہیں، بھارت اور کینیڈا میں بھی ججوں کو انکوائری کے بعد مستعفی ہونا پڑا، ایک جج اورسرکاری ملازم کے احتساب کے طریقہ کارمیں ایک ہی فرق ہے۔اختلافی فیصلے میں کہا گیا کہ شکایت پر انکوائری کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل کا فورم موجود ہے، جب یہ جائیدادیں خریدی گئیں جسٹس فائز عیسی بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے، بیگم سریناعیسی کے بینک سے ایف بی آر کو دستاویزات موصول ہوئیں، جسٹس قاضی فائزعیسی کا اپنی بیگم کے فارن کرنسی اکانٹس کے ساتھ تعلق تھا، ایف بی آرکی جانب سے ان دستاویزات کا جائزہ لینا نہایت ضروری ہے، اکثریتی ججوں نے ایک بے ترتیب صورتحال پیدا کردی، فیصلے سے عدالت کے طریقہ کار پر قانونی نزاکتوں کے پردے ڈال دیے گئے، تاثرپیدا ہوسکتا ہے کہ دالت نے اپنے ایک شخص کے لئے مختلف معیار اپنایا، ایک جج بلند ترین مقام پر فائز ہونے کی وجہ سے طبقہ اشرافیہ کا حصہ ہوتا ہے۔جسٹس منیب اختر نے اختلافی فیصلے میں اضافی نوٹ میں کہا کہ 29 جنوری کو دیا گیا فیصلہ دس میں سے 4 ججزکا ہے، جسٹس یحیی آفریدی نیاضافی نوٹ دیا اور جسٹس ریٹائرڈ منظور ملک تفصیلی فیصلے پر کیسے دستخط کرسکتے ہیں؟ یہ باعث تشویش ہے کیوں کہ جسٹس منظورملک نے فیصلے سیاتفاق کیا اور وہ کئی ماہ پہلے ریٹائر ہوچکے اور قانون کے تحت جسٹس منظورملک تفصیلی وجوہات پر دستخط نہیں کرسکتے تھے، اس لیے جسٹس ریٹائرڈ منظور ملک کے دستخط شدہ فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ پٹشنرجج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل تحقیقات کرسکتی ہے، جسٹس فائزعیسی نظرثانی کیس میں کوئی اکثریتی رائے موجود نہیں ہے، اس لیے سپریم جوڈیشل کونسل یا کوئی بھی فورم ایف بی آر رپورٹ پر تحقیقات کرسکتا ہے، جسٹس قاضی امین نے جسٹس منیب اخترکیاضافی نوٹ سیاتفاق کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں