بلوچستان انرجی کمپنی کی تمام اہم عہدوں پر دوسرے صوبوں کے لوگ تعینات
کوئٹہ:پاکستان بار کونسل کے ممبر منیر احمدکاکڑ ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ بلوچستان انرجی کمپنی لمیٹڈ میں پسند وناپسند اور کرپشن کابازار گرم ہے لیکن کوئی نوٹس لینے والا نہیں ،غیر تربیت یافتہ لوگوں کو تکنیکی پوسٹوں پر تعینات کرکے حق داروں کا حق چھیننا جارہاہے ،بلوچستان کے لوگوں کو نظرانداز کرکے دوسرے صوبے سے لیگل کنسلٹنٹ ہائیر کیاگیاہے لیکن وہ اپنے صوبے میں بیٹھ کر بلوچستان کے معاملات ڈیل کررہاہے جو نااہلی کی انتہا ہے،کراچی سے اسپائر لاءفرم کے حسین انصاری کو لیگل ایڈوائزر ،ملتان سے جیوفزیسٹ عبدالناصر اوراسلام آباد سے طاہر مقصودکو بطور جنرل منیجر ٹیکنیکل لیاگیاہے ہاﺅس الاﺅنس ملنے کے باوجود لاکھوں روپے تنخواہ لینے والے کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر دفتر کے اوپر والے حصے میں رہ رہے ہیں جس کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا۔ منیراحمدکاکڑ ایڈووکیٹ نے کہاکہ بلوچستان کو یتیم سمجھ کر ہرکوئی لوٹنے میں مصروف ہیں ،بلوچستان انرجی کمپنی لمیٹڈ صوبے میں قدرتی معدنیات کو ڈھونڈنے کیلئے بنائی گئی ہے لیکن بدقسمتی سے کمپنی کو صرف اور صرف پسند وناپسند اور اپنے دوستوں کو نوازنے تک محدود کردیاگیاہے ،اس وقت کمپنی کی جانب سے کراچی سے اسپائر لاءفرم کے حسین انصاری کو لیگل ایڈوائزر ،ملتان سے جیوفزیسٹ عبدالناصر اوراسلام آباد سے طاہر مقصودکو بطور جنرل منیجر ٹیکنیکل لیاگیاہے انہوں نے کہاکہ کمپنی میں لیگل کنسلٹنٹ ہوں یا ٹیکنیکل انجینئر یا پھر کمپنی کی طرف سے کوئی ٹینڈرز کرناہوں تو کمپنی کی جانب سے نہ صرف لیگل ایڈوائزر کیلئے باہر سے کسی کو تعینات کیاجاتاہے بلکہ ٹیکنیکل انجینئرز کے عہدوں سمیت ٹینڈرز بھی بلوچستان سے باہر کے لوگوں کو دےاجاتاہے ،اسی طرح ٹیکنیکل انجینئرز کی آسامیوں پر غیر تربیت یافتہ لوگوں کو تعینات کرکے حق داروں سے ان کا حق چھیننا جارہاہے بلوچستان کے وکلاءکسی کو صوبے کے نوجوانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیگی ،کمپنی کی جانب سے کراچی سے لیگل ایڈوائزر تعینات کیاگیاہے اور موصوف کراچی میں بیٹھ کر بلوچستان کے معاملات کو ڈیل کررہاہے جو کسی المیہ سے کم نہیں ہے کیا بلوچستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ قابلیت نہیں کہ وہ بلوچستان انرجی کمپنی لمیٹڈ کے لیگل کنسلٹنٹ بن سکیں ،انہوں نے کہاکہ اس طرح کے ناانصافی کو کسی صورت برداشت نہیں کیاجاسکتالاکھوں روپے تنخواہیں لیتے ہیں لیکن اس کے باوجود دفتر کے اوپر والے منزل میں رہائش پذیر ہیں محکمہ انرجی کے حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اگر جلد سے جلد ان غیر قانونی معاملات کا نوٹس لیکر حق داروں کو ان کا حق نہ دیاگیا تو وکلاءاپنے حق کیلئے ہرپلیٹ فارم پر آواز بلند کرینگے ۔


