ملک میں یوریا کھاد کی قلت اور بیرون ملک اسمگلنگ حب کے زمینداروں نے یوریا کھاد سے بھرے دو ٹرالر روک لئے
حب(نمائندہ انتخاب) ملک میں یوریا کھاد کی قلت اور بیرون ملک اسمگلنگ حب کے زمینداروں نے یوریا کھاد سے بھرے دو ٹرالر روک کر متعلقہ سرکاری محکموں کو اطلاع کردی پولیس کی جانب سے معاملے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ زمینداروں کے احتجاج پر اسسٹنٹ کمشنر پہنچ گئے ،زمینداروں سے مذاکرات کھاد محکمہ زراعت کی تحویل میں دیکر آج سرکاری نرخ پر حب کے زمینداروں کو فروخت کرنے کا فیصلہ ،کھاد پنجاب سے حب لانے کے بعد وڈھ لے جانے کی آڑ میں افغانستان اسمگل کرنے کی کوشش کی جارہی تھی سراپااحتجاج زمینداروں کا موقف کھاد سے بھرے ٹرالر روکنے پر کسٹم انٹیلی جنس کے اہلکار اور آفیسربھی معاملے میں کود پڑے کھاد کو درآمدی مال قرار دینے کی کوشش ،اسسٹنٹ کمشنر نے زمینداروں سے مذاکرات کے وقت میڈیا کے کیمرے بند کرادیئے بعدازاں موقف سے آگاہ کئے بغیر روانہ ہو گئے ٹرالرز اور ٹرک کا عملہ موقع سے غائب ہو گیا جبکہ گاڑیوں کو پروٹوکول دینے والی مبینہ سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیاں رفو چکر ہو گئیں اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ روز ساکران حب کے زمیندار امین مری کو اطلاع ملی کہ یوریا کھاد سے بھرے دو ٹرالرز سے کھاد کی بوریاں ایک بڑے ٹرک میں منتقل کی جارہی ہیں جس پر و ہ اپنے دیگر زمینداراور سماجی وسیاسی علاقائی شخصیات کے ہمراہ حب شہرمیں RCDہائی وے کے کنارے اشوک پمپ پر پہنچ گئے اور کھاد سے بھری گاڑیوں کو روک کر احتجاج کیا اور پولیس انتظامیہ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو اطلاع دی جس پر حب صدر تھانہ پولیس نے انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور ایک حوالدار کو معاملے کو حل کرنے اور زمینداروں سے مذاکرات کرنے کیلئے بھجوادیا گیا تاہم زمینداروں کے سخت احتجاج کی خبر ملنے پر اسسٹنٹ کمشنر حب موقع پر پہنچے اور سراپا احتجاج زمینداروں کا موقف سنا اس موقع پرمحکمہ زراعت کے افسران بھی موجود تھے زمینداروں کا کہنا تھا کہ مذکورہ گاڑیوں میں لوڈ دو ہزار کے لگ بھگ یوریاکھاد کی بوریاں پنجاب سے حب تک ایک بلٹی پر لائے جانے کے بعد وڈھ لے جانے کی آڑ میں افغانستان اسمگل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ اسوقت ضلع لسبیلہ میں یوریا کھاد کی شدید قلت ہے اور فصلوں کو کھاد نہ ملنے کی وجہ سے زمینداروں کو نقصان کا سامنا ہے بلکہ ملک میں اناج کی قلت کے خدشات کو بھی خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا زمینداروں کے احتجاج اور مطالبے پر حب انتظامیہ اور محکمہ زراعت کے افسران نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ کھاد کو سرکاری تحویل میں لیا جارہاہے بعدازاں آج مذکورہ کھاد کی بوریاں حب ساکران کے زمینداروں کو مقرہ سرکاری نرخ کے مطابق فروخت کی جائیں گے اس موقع پر کسٹم انٹیلی جنس کے بعض اہلکار اور آفیسر بھی معاملے میں کود پڑے اور زمینداروں کے احتجاج پر روکی گئی کھاد کو درآمدی مال قرار دیکر کھاد اور گاڑیاں اپنی تحویل میں لینے کی کوشش کی تاہم متعلقہ اداروں اور زمینداروں کی مداخلت پر کسٹم حکام کو مایوس لوٹنا پڑا کھاد کی مبینہ اسمگلنگ پر احتجاج کرنے والے زمینداروں کا کہنا تھا کہ مذکورہ کھاد جو کہ پنجاب سے لائی جارہی تھی گاڑیوں کے عملے کے پاس کسی بھی کھاد بنانے والی کمپنی کی کوئی انوائس نہیں بلکہ صرف گڈز کمپنی کی بلٹی موجود ہے انھوں نبے کہاکہ حب میں یوریا کھاد کے ڈیلرز اور اس کاروبار سے منسلک بااثر منافع خور تاجروں نے کھاد کی قلت کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے ذخیرہ کر رکھی ہے اور زمینداروں کو کھاد کے سرکاری نرخ فی بوری 1750روپے کے بجائے ساڑھے تین ہزار سے4ہزار روپے میں فروخت کی جارہی ہے ۔


