نوشکی میں کارروائی، 400بوری کھاد اسمگل کرنے کی کوشش ناکام
نوشکی:نوشکی پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے 400بوری کھاد سے بھری بس کوحراست میں لے لیاہے۔گزشتہ روزانسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر رائے (ہلال شجاعت)و ڈی آئی جی رخشان نذیراحمد کرد کی خصوصی ہدایات پرعمل کرتے ہوئے گزشتہ رات ایس پی نوشکی غلام حسین باجوئی نے گشت کے دوران کیڈٹ کالج نوشکی کی سیکیورٹی چیک کی تو واپسی پر ایک مشکوک بس نمبر BSB-748 سڑک پر دیکھی جو کہ بلٹی کے مطابق 400 بوری یوریا (کھاد) سے لوڈ تھی جو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے افغانستان سمگل کیے جارہے تھے۔ موقع پر مذکورہ بس اور ڈرائیور کوحراست میں لے لیا گیا اور مزید قانونی کارروائی کے لیے کسٹم نوشکی اور ڈپٹی کمشنر سے رابطہ کیا گیا ہے۔ یاد رہے اس سے پہلے نوشکی کے عوام اور زمیندار ایکشن کمیٹی یوریاں سمگلنگ کے خلاف نوشکی میں احتجاجی مظاہرے کیے اور RCDشاہرہ کوبند کرنے کا بھی اعلان کیا۔ نوشکی پولیس ایس پی غلام حسین باجوئی کی زیر نگرانی نہ صرف یوریا کی سمگلنگ بلکہ دیگر تمام جرائم کی روک تھام کیلیے اپنی کوششیں بروئے کار لائیگی۔


