اس وقت ملک مشکل و بحرانی کیفیت میں ہے، ہمیں وضاحت چاہئے ملک کی خارجہ پالیسی کونسی ہے، اعظم سواتی
اسلا م آباد:حکومت نے سینیٹ میں واضح کیا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی یہ ہے کہ ہم کسی کیمپ میں نہیں جائیں گے،پاکستان بشمول امریکہ تمام ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہے،امید ہے آئندہ جائزہ اجلاس میں پاکستان کو فیٹف گرے لسٹ سے نکال لیا جائیگا،سعودی قرض واپسی کا ٹائم فریم ایک سال ہے،ضرورت پڑی تو قرض واپسی میں توسیع بھی کر لیں گے۔جمعہ کو چیئرمین سینٹ کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کے 28 میں سے 27 مطالبات پورے کر دئیے تاہم ہمیں شکار بنایا جارہا ہے اور پریشر ڈالے جارہے ہیں،امید ہیں اگلے جائزے میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال لیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے مخالف ممالک سیاسی ایجنڈے کے تحت ہماری مخالفت کر رہے ہیں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک کی برآمدات میں 25 سے 28 فیصد اضافہ ہوا۔پٹرول پر سیلز ٹیکس اور پی ڈی ایل کو کم کیا،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 100 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ہم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 40 فیصد تک اضافہ کیا،دو ارب ڈالر کی کورونا ویکسین خریدی گئی،ہم نے چینی، گندم امپورٹ کی جس کے باعث امپورٹ میں اضافہ ہوا۔سینٹر مشتاق احمد نے کہاکہ سعودی قرض کے معاہدے میں واپسی میں توسیع کے حوالے سے کوئی شق شامل ہی،پہلے قرضے 2.3 فیصد سود پر لیا تھا، اس بار 4 فیصد سود پر کیوں لیا گیا۔وزیر خزانہ شوکت ترین نے جواب دیاکہ سعودی قرض واپسی کا ٹائم فریم ایک سال ہے،ضرورت پڑی تو قرض واپسی میں توسیع بھی کر لیں گے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا میں انٹرسٹ ریٹ بڑھ رہے ہیں،سعودی قرض کا شرح سود چار فیصد ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے تو سعودی عرب سے قرض مانگا ہی ایک سال کیلئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ قرض پر شرائط تو ڈالی جاتی ہیں، لازم نہیں کہ ان کا نفاذ بھی کیا جائے،سعودی عرب نے کہا ہے کہ ہم نے کہیں دیوالیہ کیا تو یہ رقم واپس لے سکتے ہیں،ہم دیوالیہ ہی نہیں کریں گے۔وفاقی وزیر ریلوے سینیٹر اعظم سواتی نے کہاکہ ہمارے آٹھ وزرا ہاس میں تھے،اپوزیشن کی جانب سے شاباش ملنی چاہیے،اب میں ان کے زخموں پہ نمک چھڑک رہا ہوں،ان کے دور میں ایک ہی وزیر تھے۔ انہوں نے کہاکہ اکاؤنٹلبٹی کے ضروری ہیں وزرا آئیں جواب دیں،پوزیشن کو شاباش دینی اہیے۔ سینیٹر شیری رحمن نے کہاکہ پہلے تو میں بی اے پی کو کہنا چاہتی ہوں کہ آپ گرے لسٹ میں بلوچستان کے مسائل ہیں، آپ اپوزیشن کے بینچز پر بیٹھ جائیں ہم آپ کو انہیں سنیں گے،اور اعظم سواتی نے وزرا کا کہا تو میں سمجھتی ہوں یہ اپوزیشن کی کاوشوں سے ہوا ہے۔شیری رحمان نے کہاکہ ہم بھارت میں باحجاب خاتون کے خلاف رویے کی مذمت کرتے ہیں،عالمی ادارے بھی اس واقعے کی مذمت کریں،اس وقت ملک مشکل و بحرانی کیفیت میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے گزشتہ روز امریکہ بارے پالیسی بیان دیالیکن دوسری طرف وزیر خارجہ نے کچھ اور بیان دیا ہے،اس سے لگتا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی کنفیوژن کا شکار ہے،وزیراعظم کو اس طرح کے کنٹروورشل بیانات نہیں دینا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں وضاحت کی جائے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کونسی ہے، وزیراعظم والی یا وِزیر خارجہ والی۔وزیراعظم یا وزیر خارجہ اس حوالے سے ایوان میں آکر وضاحت دے۔قائد ایوان شہزاد وسیم نے کہاکہ خارجہ پالیسی بارے یہاں کنفیوڑن پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری خارجہ پالیسی یہ ہے کہ ہم کسی کیمپ میں نہیں جائیں گے،ہماری خارجہ پالیسی ہے کہ پاکستان بشمول امریکہ تمام ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہے۔ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ اب روس کے ساتھ بھی بہترین تعلقات قائم ہونے جارہا ہے۔سابق چیئر مین سینٹ رضا ربانی نے کہاکہ بلوچستان پر سیر حاصل بحث ہونا ضروری ہے،بلوچستان کا مسئلہ صرف سیکیورٹی یا ترقیاتی منصوبے نہیں،بلوچستان کا مسئلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کا مسئلہ ہے،مسنگ پرسنز کا مسئلہ خاندانوں سے ملاقات سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہاکہ وزیر خزانہ نے سینڈک پروجیکٹ لیز کی دوبارہ منظوری دیکر غیر آئینی کام کیا،فیصلہ کیا گیا تھا سیڈک منصوبہ کی لیز ختم ہونے کے بعد منصوبہ بلوچستان حکومت کو دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ حکومتوں نے دو بار سینڈک کی لیز کو رینیو کیا جو خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہاکہ خارجہ پالیسی پر حکومتی تضادات کا معاملہ بھی ہے،وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے مختلف بیانات اخبارات میں چھپے ہیں۔انہوں نے کہاکہ خارجہ پالیسی ریاست طے کرتی ہے حکومت کو صرف ڈکٹیٹ کیا جاتا ہے،وزیراعظم کا بیان الیکشن مہم کے علاوہ کچھ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کا پہلے دن سے جھکا امریکہ کی طرف رہا ہے،ریاست نے سیٹو، سینٹو میں شرکت کی، بڈابیر امریکہ کو دیا گیا،امریکی سامراج کے کہنے پر رجعت پسند قوتوں نے منتخب وزیراعظم کو شہید کیا۔ انہوں نے کہاکہ ڈرونز کے استعمال کیلئے شمسی بیس امریکہ کو دی گئی،شمسی بیس امریکہ کو دینے کا ریکارڈ کسی کے پاس نہیں تھا،گپ شپ مین پاکستان کی ریاست کو بیچ دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کا سٹریٹیجک مفاد چین اور روس کے ساتھ ہے،پھر بھی سی پیک منصوبوں کو التوا میں ڈالا جارہا ہے،آئی ایم ایف کے ساتھ ڈاکومنٹ اف سرنڈر سائن کیا گیا،آئی ایم ایف اب بجٹ پر ہمیں ڈکٹیشن دے رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ فیٹف کی تمام شرائط پوری کر لیں،امریکی سامراج کی منظوری تک پاکستان فیٹف سے نہیں نکلے گا۔سینیٹر فیصل جاوید نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا،وزیراعظم عمران خان ان کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے،یہ چاہتے ہیں عمران خان مفاہمت کے ڈاکومنٹ پر دستخط کرے۔انہوں نے کہاکہ ڈو مور سے ابسولوٹلی ناٹ تک کا یہ سفر ہے،تمام عالمی فورمز پر پاکستان کی پزیرائی ہوئی ہے،تحریک عدم اعتماد ایک ڈرامہ ہے،اگر یہ کامیاب ہو بھی گئے تو عمران خان حکومت سے باہر زیادہ خطرناک ہے۔ شبلی فراز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہصوبوں کو چاہئے کہ جو قومی پانی کے معیار کی نگرانی کے تحت اصول ہیں اس کے مطابق پانی فراہم کریں،پاکستان میں 61 فیصد پینے کا پانی آلودہ اور غیر محفوظ ہے،وفاقی حکومت صوبوں کو صاف پانی کی فراہمی کے لئے معلومات فراہم کر سکتی ہے۔بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس سوموار سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔


