رمضان شوگر مل، ایک اور چپڑاسی کے اکاونٹ میں کرڑوں روپے منتقل ہونے کا انکشاف
لاہور: رمضان شوگر مل کے ایک اور چپڑاسی کے اکاونٹ میں کرڑوں روپے منتقل ہونے کا انکشاف ہوگیا وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)کا کہنا ہے کہ رمضان شوگر مل کے ایک اور چپڑاسی کے اکاونٹ میں کرڑوں روپے منتقل ہوئے، مل کے چپڑاسی گلزار خان کی وفات کے بعد بھی اکاونٹ آپریٹ ہوتا رہا، گلزار خان 7 جنوری 2015 کو فوت ہوئے اور اکاونٹ سے 25 مارچ 2015 کو ٹرانزیکشن ہوئی، گلزار خان کی وفات کے بعد اکاونٹ سے 40 لاکھ 38 لاکھ روپے منتقل کیے گئے، گلزار خان کے نام پر 2 اکاونٹ بنائے گئے، کروڑوں روپے کی ترسیلات ہوئیں۔اس سے پہلے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)کی جانب سے شہباز شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات میں عدالت میں جمع کروائی گئی دستاویزات کے مطابق شریف خاندان کی ملکیتی رمضان شوگر ملز کے 10 ملازمین کے اکاؤنٹس میں 7 ہزار 404 ملین موصول ہوئے، فیکٹری کے چپڑاسی ملک مقصود کے اکانٹس میں 3 برسوں کے دوران 771 ملین روپے،کیشئر محمد اسلم کے اکانٹ میں 1781ملین روپے موصول ہوئے۔دستاویزات میں بتایا گیا کہ رمضان شوگر ملز کے کلرک اظہرعباس کے اکانٹ میں 480ملین روپے،کلرک خضرحیات کے اکانٹ میں 1425 ملین روپے،باسٹورکیپرغلام شبیر کے اکانٹ میں 434 ملین روپے موصول ہوئے جبکہ اسسٹنٹ اکاٹنٹ محمد انوار کے اکانٹ میں 883 ملین روپے جبکہ اسسٹنٹ منیجرظفر اقبال کے اکانٹ میں 525 ملین روپے موصول ہوئے۔ اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی آفیسر کاشف مجید کے اکانٹ میں 362 ملین روپے جبکہ رمضان شوگر ملز کے پرانے ملازم مسرور انوار کے اکانٹ میں 231 ملین روپے موصول ہوئے، رمضان شوگر ملز کے ڈی ای او تنویر کے اکانٹ میں 512 ملین روپے موصول ہوئے، ان تمام ملازمین کو شہباز شریف خاندان کے بے نامی داروں کے طور پر استعمال کیا گیا۔


