قائمہ کمیٹی برائے سمندری امور،روبینہ خالد نے گوادر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی کمی کا مسئلہ اٹھایا
اسلام آباد :سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندری امور کو سیکرٹری میری ٹائم افیئر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جولائی تک گوادر کو 1.5 ملین گیلن اضافی پانی فراہم کر دیا جائیگا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندری امور کا اجلاس بدھ کو یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کمیٹی نے بحری امور کے وزیر سید علی حیدر زیدی کے والد کے انتقال پر فاتحہ خوانی کی اور بلندی درجات کیلئے دعا کی۔ شروع میں چیئرپرسن کمیٹی روبینہ خالد نے گوادر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی کمی کا مسئلہ اٹھایا۔ سیکرٹری وزارت بحری امور نے بتایا کہ گوادر کی 100 ہزار آبادی کو 3 ملین گیلن پانی یومیہ فراہم کیا جاتا ہے جبکہ یومیہ 5 ملین گیلن پانی کی طلب ہے۔ سیکرٹری میری ٹائم افیئرز نے یقین دہانی کرائی کہ جولائی تک گوادر کو 1.5 ملین گیلن اضافی پانی فراہم کر دیا جائیگا، سیکرٹری نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ٹینک کے سائز کی وجہ سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔ سینیٹر نسیمہ احسان نے گوادر کے عوام کے لیے پینے کے صاف پانی کی کمی کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا۔ کمیٹی نے گوادر پورٹ پر ایل این جی امپورٹ ٹرمینلز اور ورچوئل ایل این جی پائپ لائن (گاڑی پر مبنی) کے قیام کی تجویز پر تفصیل سے غور کیا تاکہ گوادر پورٹ کے ذریعے مستقبل میں ایل این جی کی اضافی درآمد کی اجازت دی جا سکے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گوادر بندرگاہ پر ایل این جی ٹرمینلز کی تنصیب کے لیے تین درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ کمیٹی کو ان درخواستوں کی صورتحال اور اس پر جی پی اے کے موقف کے بارے میں بتایا گیا۔ چیئرمین جی پی اے نے بتایا کہ گوادر پورٹ ماسٹر پلان ایک تفصیلی منصوبہ اور ایل این جی ٹرمینلز کے قیام اور اس سے منسلک سمندری اور غیر ملکی تنصیبات کیلئے مخصوص جگہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منظور شدہ گوادر پورٹ ماسٹر پلان کے مطابق مخصوص جگہ پر ایل این جی ٹرمینلز قائم کیے جا سکتے ہیں۔ چیئرپرسن کمیٹی نے معاملہ آئندہ اجلاس میں مزید غور و خوض کے لیے موخر کر دیا۔ کمیٹی نے مالی سال 2021-22 کے پہلے چھ مہینوں کے دوران وزارت سمندری امور اور اس سے منسلک محکموں کے مختص ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ اور اس کے استعمال کا جائزہ لیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گوادر میں کشتیوں کیلئے برتھنگ کی سہولیات کی اپ گریڈیشن میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کا بجٹ 37.975 ملین مختص کیا گیا، دیگر منصوبوں میں گوادر میں ایسٹ بے ایکسپریس، پاک چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کی تعمیر اور گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے) کیلئے میرین سروسز ویسلز کا حصول 93 فیصد، 90 فیصد اور 85 فیصد فزیکل پروگریس شامل ہیں،لیڈنگ لائٹ ٹاور، گوادر کی بحالی کا کام بھی 40 فیصد کے حساب سے 20.590 ملین روپے کے مختص بجٹ سے جاری ہے۔ کمیٹی نے مالی سال 2021-22 کے بجٹ کی مختص رقم اور اخراجات کا بھی جائزہ لیا، کمیٹی کو بتایا گیا کہ سال 2022-22 کیلئے 1190 ملین روپے کا بجٹ مختص کیا گیا،کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی، کراچی کو کل 76000000 ملین روپے کا بجٹ دیا گیا تھا جس میں سے 55 فیصد اخراجات 31،12،2021 تک استعمال ہو چکے ہیں۔ اجلاس میں سینیٹر عابدہ محمد عظیم، محمد عبدالقادر، کودہ بابر، دانش کمار اور سینیٹر نسیمہ احسان نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزارت کے سینئر افسران اور اس سے منسلک محکموں نے بھی شرکت کی۔


