کوئٹہ، سیشن کورٹ نے حاجی لشکری رئیسانی و دیگر کے 30,30ہزار روپے مچلکے ضمانت منظور کر لی

کوئٹہ:سیشن کورٹ کوئٹہ کے عدالت میں سابق سینیٹر حاجی لشکری رئیسانی اور دیگر کے 30،30ہزار روپے مچلکے ضمانت منظور کرلی گئی مقدمے کی آئندہ سماعت26فروری تک ملتوی کردی گئی استغاثہ کے مطابق 2021میں لاپتہ افراد کی ریلی منعقدکرنے پر مقدمہ قائم کرنے کے بعد حاجی لشکری رئیسانی،ماما قدیر بلوچ سمیت 2سو سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ ہوا تھااس موقع پر ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی سمیت سیاسی رہنماء لاپتہ افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے آئے تھے وائس فار بلوچ مسنگ پرسن کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کیلئے 13سالوں میں پرامن جدوجہد کررہے ہیں اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 9 کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو آرٹیکل 6 بھی لاگو ہونا چاہیے آرٹیکل 9 پر عملدرآمد حکومت نہیں کروا سکتی مگر ہمیں اشتہاری قرار دئے دیا گیاانہوں نے مزید کہا کہ حکومت سچ برداشت نہیں کرسکتی اس لئے ہمارے خلاف مقدمہ ہوا ہم عدالتوں میں اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرینگے حکمرانوں کی کوشش ہے کہ وہ بلوچستان کے حقوق کی بات کرنے والے کی زبان بند کیا جاسکے ان کا یہ خواب کبھی بھی پورا نہیں ہوگا بلوچستان کے سائل وساحل پر صوبے کے عوام کا حق ہے ہم اپنے معدنی ذخائر کی لوٹ اور سودا بازی کبھی بھی برداشت نہیں کرینگے لاپتہ افراد کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دینگے ہم مقدمات سے ڈرنے والے نہیں واضح رہے کہ آرٹیکل نو ستراں،اور اٹھارہ کی خلاف ورزی حکومت خود کر رہی ہے مقدمے کی آئندہ سماعت 26 فروری تک ملتوی ہوا

اپنا تبصرہ بھیجیں