بلوچستان میں مقامی حکومتوں میں افراد باہم معذوری کو مخصوص نشستیں دی جائیں،، سید ہ امتیاز فاطمہ

لورالائی: کولیشن فار انکلوسیو پاکستان (سی آئی پی) ”ہم بھی ہیں“کے زیر اہتمام پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، پریس کانفرنس میں سی آئی پی کے ریجنل مینٹورمسعود خان، مہر اللہ حمزہ زئی، زاہد خان، مبارک شاہ نے بھی شرکت کی، پر یس کانفرنس سے سی آئی پی کی قومی چیئرپرسن سیدہ امتیاز فاطمہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افراد باہم معذوری کو سینٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں میں مناسب نمائندگی دی جائے، انہوں نے کہا کہ سی آئی پی اس وقت پاکستان بھر میں 200سے زائد سول سائٹی تنظیموں کا ایک نیٹ ورک ہے، 2017 میں یہ نیٹ ورک قائم کیا گیا جو خواتین، افراد باہم معذوری، اور خواجہ سراؤں کے سیاسی و انتخابی حقوق کے تحفظ اور ان کی اس عمل میں شمولیت کو بڑھانے کی کاوشیں کررہا ہے، 2017کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں افراد باہم معذوری کی آبادی 913667جب کہ نادرا کے مطابق 371833افراد باہم معذوری مخصوص نشان والے کمپیوٹر ئزڈ شناختی کارڈ، نائیکو یا بچوں کے سمارٹ کارڈز حاصل کرچکے ہیں تاہم پاکستان کے معروضی حالات کے پیش نظر ان اعداد و شمار کو افراد باہم معذوری کی مکمل تعداد کے طورپر نہیں دیکھا جاسکتا، سیاسی شرکت افراد باہم معذوری کے لئے کمیونٹی کے ساتھ ضم ہونے اور زیادہ سے زیادہ رسائی کی وکالت کرنے کا ایک اہم طریقہ ہے، افراد باہم معذوری کے حقوق سے متعلق یواین سی آر پی ڈی کا آرٹیکل 29افراد باہم معذوری کو ووٹ کا حق دینے اور انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے کی تائید کرتا ہے جبکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 25کے مطابق تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور مساوی قانونی تحفظ کے حق دار ہیں لیکن پاکستان میں افراد باہم معذوری کو مقامی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے میں بہت سی مشکلات کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لئے مختلف سطح کے قانون ساز اور مقامی حکومتوں کے اداروں میں افراد باہم معذوری کی نمائندگی کے لئے کوٹہ مقرر کیاجانا انتہائی مناسب ہے، کیونکہ کوٹہ سیاسی فیصلہ سازی کے عمل تک رسائی بڑھا سکتا ہے اور افراد باہم معذوری کو معاشرے میں رہنما بننے کے لئے با اختیار بنا سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کوٹہ کے ذریعے ان گروہوں کی نمائندگی بڑھانا ممکن ہے جو سیاسی عمل میں پسماندہ ہوں، لہٰذا افراد باہم معذوری کی سیاسی اور فیصلہ سازی کے عمل میں موثر شرکت کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ بلوچستان میں مقامی حکومتوں کے قوانین میں ضروری ترامیم کرکے ہر سطح کے مقامی حکومتوں میں کم از کم ایک مخصوص نشست افراد باہم معذوری اور خواجہ سرا کے لئے مختص کی جائے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ڈس ابیلٹی ایکٹ 2017 میں پاس ہوچکا ہے مگر شومئی قسمت کہ اب تک اس ایکٹ کے رولز آف بزنس نہیں بنے،انہوں نے کہا کہ فی الفور یہ رولز آف بزنس بنائے جائیں تاکہ ایکٹ پر عمل ہو اور افراد باہم معذوری کی زندگیوں میں تبدیلی ممکن ہو، انہوں نے کہا کہ خواجہ سرا افراد کے ٹرانس جینڈر پرسنز(پروٹیکشن رائٹس) ایکٹ کے لئے صوبائی قانون سازی کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں