موٹروے پولیس میں بلوچستان کے کوٹے پر تعیناتیوں اور خالی اسامیوں کی تفصیلات طلب

اسلام آباد :سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے مواصلات نے موٹروے پولیس میں بلوچستان کے کوٹے کی خالی آسامیوں اور موجودہ کوٹے پر تعیناتیوں کی تفصیلات طلب کر لی۔ منگل کو سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا چیئرمین پرنس احمد عمرباحمدزئی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر مواصلات کی عدم شرکت پر سنیٹر دھنیش کمار نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر کی گردن میں سریا ہے،ان کو پہلے نمبر پر کیسے آیا،ان کو سب سے آخر میں آنا چاہئے تھا۔دھنیش کمار نے کہاکہ کمیٹی کو فعال بناناہے تو ان کی کمیٹی میں حاضری کو یقینی بنانا ہوگا،وفاقی وزیر سے پوچھنا ہے کہ ایک ہزار ارب کیسے بچائے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ان کا ایک ہزار بچانے کا دعوی جھوٹ کا پلندہ ہے،آپ ان سے متعلق رولنگ دیں۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہاکہ آپ سوچ سمجھ کر رولنگ دیں،پرچہ بھی ہو سکتا ہے۔ سینیٹر عبد الغفور حیدری نے کہاکہ قائمہ کمیٹی کو مسلسل نظر انداز کرنا کمیٹی کو بے توقیر کرنا ہے۔ کامل علی آغا نے کہاکہ وزیراعظم کو ان کی عدم شرکت سے بارے لکھا جائے۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ بالکل چیئرمین سینیٹ اور وزیراعظم کو لکھا جائے گا۔ پرنس احمد عمر احمد زئی نے کہاکہ جو کمیٹی چاہے گی ایسا ہی کیا جائے گا۔ منظور احمد کاکڑ نے کہاکہ ابھی تو وہ نمبرون وزیرہیں،ان کو کمیٹی میں آنے سے نہیں گھبرانا چاہیے ۔سیکرٹری وزارت مواصلات نے کمیٹی کو پی ایس ڈی پی منصوبوں سے متعلق بریفینگ دی ۔سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے کہاکہ این ایچ اے بلوچستان کیلئے ایک موٹروے تو بنائے۔ سینیٹر عمر فاروق نے کہاکہ ڈی آئی خان سے بلوچستان سے جاتے ہی پتہ چلتا ہے کہ بلوچستان پہنچ گیا ہے،سڑکیں بتاتی ہیں کہ بلوچستان،پنجاب اور خیبرپختونخوامیں کیا فرق ہیں؟۔بعد ازاں کمیٹی نے موٹروے پولیس میں بلوچستان کے کوٹے کی خالی آسامیوں اور موجودہ کوٹے پر تعیناتیوں کی تفصیلات طلب کر لی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں