ادب و سیاست کا رشتہ روح اور جسم کا ہے, ڈاکٹر مالک بلوچ

نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار کے زیر اہتمام مادری زبانوں کے مناسبت سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں تقریب کا انعقاد۔تقریب میں نیشنل پارٹی کے سربراہ و سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ ادب و سیاست کا رشتہ روح اور جسم کا ہے۔اور زبان دونوں کی بنیاد اور محور ہے۔سیاستدان کو اگر اپنی زبان پر عبور نہ ہو تو سماج کو متاثر نہیں کرسکتا۔مادری زبان کا تعلق قوم اور ثقافت سے ہے جو قوموں کی تہذیب اقدار کی اولین آمین ہے۔نامور دانشور شیخ فرید کی نیشنل پارٹی میں شمولیت نیشنل پارٹی کی فکری و شعوری اور ترقی پسند جدوجہد کی عکاس ہے۔تقریب سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سنئیر نائب صدر سابق سینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی مرکزی ریسرچ اینڈ ایڈوکیسی سیکرٹری آغا گل پروفیسر صدف چینگزئی معروف دانشور سرور سودائی دانشور لکھاری و صحافی شیخ فرید نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر راحت ملک صدیق کیھتران ضلعی نائب صدر حنیف کاکڑ نے بھی خطاب کیا۔جبکہ نیشنل پارٹی کے صوبائی ورکنگ کمیٹی کے ممبر کلثوم نیاز بلوچ بی ایس او پجار کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری ابرار برکت بلوچ، پارٹی رہنماؤں باقی بلوچ اور نورین بلوچ نے مادری زبانوں کی اہمیت افادیت ، ترقی و ترویج کے حوالے مقالے پیش کیے۔استاد عجب خان اعجاز سنگت اور بی ایس او پجار کے رہنماء شہ مرید بلوچ نے خوبصورت شاعری سے حاضرین کی توجہ حاصل کی۔نظامت کے فرائض نیشنل پارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری ریاض زہری نے سرانجام دئیے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی نے آپ ے مختصر دور اقتدار میں مادری زبانوں کو نصاب کا حصہ بنایا اور نصابی کتب کو مرتب کرنا بھی شروع کیا۔لیکن نیشنل پارٹی کے بعد اس بنیادی اقدام کو روک لیا گیا۔جو مادری زبانوں بلکہ خود کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ ثقافت کو بھی نصاب کا حصہ بناؤں اور بلوچ چھاپ اور اتہڑ سمیت دیگر اس کا حصہ ہو۔تاکہ مستقبل ہمارا ماضی سے آشنا ہو۔انہوں نے کہا کہ سیاست میں کلچر کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔تاریخ میں کلاسیکل موسیقی و شاعری کی حیثیت عظیم رہی ہے۔شہ مرید اور بیبرگ کی شاعری بہترین و خوبصورت تھی۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی قیادت بے یک وقت لکھاری و سیاستدان تھے۔ہمارے جتنے اکابرین ہے وہ ادب و سیاست دونوں پر عبور رکھتے تھے۔چاہے وہ میر عبدالعزیز کرد ہو یا میر یوسف عزیز مگسی ہو۔بابو عبدالکریم شورش ہو یا محمد حسین عنقاء ہو۔ یاخان عبدالصمد خان یا گل خان نصیر ہو۔اس طرع صورت خان ہو یا حکیم بلوچ نعمت گچکی ہو یا غفار صاحب ہو۔لیکن اب لکھاری نے یا سیاست چھوڑ دی یا پھر سیاستدان نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔جوکہ المیہ پے۔انہوں نے کہا کہ بلوچی کو مختصر عرصے کےلیے قلات کی سرکاری زبان کی حیثیت ملی کیونکہ اس سے پہلے فارسی تھا۔انہوں نے کہا کہ نوجوان لٹریچر پڑھیں اور اس مستفید ہو کیونکہ لٹریچر انسان کو نہ صرف علم و آگہی فراہم کرتا ہے بلکہ قدیم تہذیبوں سے بھی روشناس کراتا ہے۔نیشنل پارٹی کے مرکزی سنئیر نائب صدر میر کبیر احمد محمد شہی نے کہا کہ مادری زبانوں کے حوالے سے خوش قسمتی نظر آرہی ہے۔کہ 21 فروری مادری زبانوں کی عالمی دن کے موقع پر صوبے بھر تقاریب منعقد ہوتی ہے۔اور آج بھی تقریب اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ عوام میں مادری زبانوں کی اہمیت افادیت اور ترقی و ترویج کا شعور پھیل چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ ریاست کیوں مادری زبانوں سے خوفزدہ ہے۔اس روش نے ہی ملک کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ریاست کو سمجھنا چائیے کہ مادری زبان قوموں کی پہچان ہے۔کوئی بھی اپنی پہچان سے روگردانی نہیں کرسکتا۔نیشنل پارٹی کے مرکزی ریسرچ اینڈ ایڈوکیسی سیکرٹری آغا گل نے کہا کہ مادری زبان محبت کی عکاس ہے اور جو ماں کی آغوش سے نکل کر پھیلتی ہے۔اس لیے مادری زبان کو تعصب و نفرت نہیں بلکہ پیار و محبت کی نشانی ہے۔اس موقع پر معروف دانشور لکھاری و صحافی شیخ فرید نے نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں