بھارت ملکی اور بین الاقوامی سطح سے توجہ ہٹانے کے لیے جعلی خبریں چلاتا ہے ، چینی میڈیا

اسلام آ باد:بھارت ملکی اور بین الاقوامی سطح سے توجہ ہٹانے کے لیے جعلی خبریں دیتا ہے ،جب تک اس کی روک تھام کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں بنائی جائے گی یہ مستقبل قریب میں ختم نہیں ہوگی، اصل مسائل پر توجہ دینے کے بجائے بھارت ہمیشہ توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے لوگوں کو جذباتی بناتا ہے، بھارت میں مسلم اقلیت کے خلاف انسانی حقوق کی بہت سی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، اور بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں لوگوں کے خلاف فوجی ظلم جاری ہے۔ گوادر پرو کے مطابق چین پاکستان مشترکہ بیان میں اقتصادی راہداری (سی پیک)،جموں و کشمیر اور چین پاکستان کے حوالے سے بھارت کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے جرنلسٹ محمد اصغر نے کہا کہ چین اور پاکستان کی جانب سے رواں ماہ کے شروع میں بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے درمیان ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان پاکستان اور چین کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلو¶ں کا احاطہ کرتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ متعدد نئے منصوبوں کو شامل کیا جا رہا ہے اور ان پر دستخط کیے جا رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ سی پیک خاص طور پر پاکستان میں لوگوں کی تقدیر بدل دے گا۔ انہوں نے کہا جیسا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے، بھارت طویل عرصے سے ایسا کر رہا ہے اور وہ بنیادی طور پر پاکستان، چین اور خاص طور پر سی پیک کو نشانہ بنا رہا ہے۔ بنیادی طور پر، بھارت اس تعاون کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ یہ نہیں چاہتا کہ اس منصوبے کی ترقی اور خوشحالی ہو۔ گوادر پرو کے مطابق ای یو ڈس انفو لیب کی جانب سے 2019 میں جاری کی گئی ایک تحقیق میں پتا چلا کہ 65 سے زائد ممالک میں کم از کم 265 جعلی مقامی نیوز ویب سائٹس کا انتظام بھارتی اثر و رسوخ والے نیٹ ورکس کے ذریعے کیا جاتا ہے جس کا مقصد منتخب نمائندوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اداروں کو متاثر کرنا اور پاکستان کے بارے میں عوامی تاثر کو متاثر کرنا ہے۔ سال 2020 تک، انڈین کرانیکلز کے عنوان سے کی گئی تحقیقات میں 116 ممالک میں ایسی بھارت نواز جعلی نیوز ویب سائٹس کی تعداد بڑھ کر 750 ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ محمد اصغر نے وضاحت کی یہ پاکستان کے خلاف ایک جامع حکمت عملی ہے۔ بھارت پاکستان کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس طرح سے ہندوستانی قیادت دراصل اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت بنیادی طور پر جھوٹی خبروں کی ذمہ دار ہے کیونکہ وہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ اصغر نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بھارتی لیڈروں نے خاص طور پر جب اقتدار سنبھالا تو بہت بڑے دعوے کیے تھے کہ وہ بھارتی معیشت کو بہت مضبوط بنائیں گے لیکن حکومت اپنے وعدے پورے نہیں کر پائی۔ اصغر نے کہا کہ اصل مسائل پر توجہ دینے کے بجائے بھارت ہمیشہ توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے لوگوں کو جذباتی بناتا ہے، بھارت میں مسلم اقلیت کے خلاف انسانی حقوق کی بہت سی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، اور بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں لوگوں کے خلاف فوجی ظلم جاری ہے، وہ اس پر قابو نہیں پا سکتے،یہی وجہ ہے کہ بھارت اس قسم کے پروپیگنڈے کے ذریعے دنیا کی توجہ اپنے گھریلو مسائل سے ہٹانا چاہتا ہے۔ اصغر نے مزید کہا اس سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر ممالک کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اور اس ملک کے لوگوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے،خوشحالی اور ترقی کا تعلق امن اور سلامتی سے ہے، جھوٹی خبروں کا شکار عوام ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ ان کا استعمال کیسے ہو رہا ہے، ان چیزوں کو روکنے کے لیے کوئی حکمت عملی ہونی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں