بلوچستان اسمبلی اجلاس،حکومتی تحریک کو اکثریت حاصل نہ ہونے پر دو قوانین قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردیئے گئے

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی تحریک کو اکثریت حاصل نہ ہونے پر دو قوانین قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردئےے گئے جبکہ بلوچستان لوکل گورنمنٹ کا ترامیمی مسودہ قانون ترامیم کے لئے واپس لے لیا گیا، منگل کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں سینئر صوبائی وزیربلدیات سردار محمد صالح بھوتانی نے استدعا کی کہ بعض اہم ترامیم کے لئے بلوچستان لوکل گورنمنٹ کا ترمیمی مسودہ قانون واپس لینے کی اجازت دی جائے ، ڈپٹی اسپیکر سردار بابر خان موسیٰ خیل نے ایوان کی رائے سے مسودہ قانون واپس لینے کی اجازت دی ، اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری بشریٰ رند نے بلوچستان جنگلات اور بلوچستان چیئرٹیز رجسٹریشن ، ریگولیشن اینڈ فیسیلیٹیشن (ترمیمی) مسودات قانون مصدرہ 2022 ایوان میں پیش کئے اور انہیں اسمبلی کے قواعد انضباط کار کے تقاضوںسے مستثنیٰ قرار دینے کی تحاریک پیش کیں جنہیں پر ڈپٹی اسپیکر نے ایوان میں رائے شماری کے بعد دونوں مسودہ قوانین کو اکثریت کی حمایت حاصل نہ ہونے پر متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کرنے کی رولنگ دی ، اجلاس میں پشتونخوامیپ کے نصر اللہ خان زیرے کی سول اسپتال کوئٹہ میں خراب مشینوں کو درست کرنے و مزید طبی سہولیات فراہم کی بابت اٹھائے جانے والے اقدامات سے متعلق توجہ دلاﺅ نوٹس پیش اور وقفہ سوالات نہ ہوسکا ، بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس 3 مارچ سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں