واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک کی سابقہ حیثیت کی بحالی کیلئے احتجاجی ریلی
کوئٹہ:آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین(سی بی اے) بلوچستان کے زیر اہتمام کمپنیوں کو تحلیل کرکے واپڈا کی سابقہ حیثیت بحال کرنے،15% ڈی آر اے الاؤنس اورہاؤس رینٹ میں 44% اضافے کی منظوری دینے، مزدورکے مسائل حل کرنے اور یونین کے صوبائی جوائنٹ سیکریٹری محمد یار علیزئی کی رہائی کے حق میں اور مہنگائی و بے روزگاری کے خلاف پورے ملک او رصوبے بھر کی طرح کوئٹہ میں بھی پریس کلب کے سامنے مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ مظاہرین سے یونین کے صوبائی چیئرمین محمد رمضان اچکزئی، وائس چیئرمین عبدالباقی لہڑی اور سیکریٹری نشر و اشاعت سید آغا محمد نے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو یاد دلایا کہ وہ الیکشن سے پہلے اپنے کیے گئے وعدوں کے مطابق پاور کمپنیوں کو تحلیل کرکے کمپنیوں کے تمام اختیارات واپڈا کو منتقل کریں اورتمام پاور کمپنیوں میں جنرل منیجرز، چیف انجینئرز، ڈائریکٹرز اوردیگر آفیسرز کی پوسٹیں کم کریں اور نچلی سطح کی 50% سے زائد خالی پوسٹوں پر بھرتیاں کرکے واپڈا کے فعال ادارے کے ذریعے بجلی کی پیداوار بڑھائی جائے، بجلی کی لائنیں اور گرڈ اسٹیشنز تعمیر کرکے ڈسٹری بیوشن کے ذریعے صنعت، زراعت، تجارت اور گھریلو صارفین کو سستی اور تسلسل کے ساتھ بجلی فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز اور آر پی پیز میں کھربوں روپے کے بینیفشریزاور حکومت کے معاون خصوصی تابش گوہر، رزاق داؤد اور ندیم بابر کی بد دیانتی پر مبنی معاہدوں کی انکوائری رپورٹ آنے کے بعد حکومت کوکارروائی سے روک کر پاور کمپنیوں میں اپنی مرضی کے دوہری شہریت کے حامل ممبران اور سیاسی بنیادوں پر بورڈ آف ڈائریکٹرز تعینات کرکے پاور سیکٹر کو مزید تباہی کی طرف دھکیل دیا گیاہے۔مقررین نے کہا کہ سابقہ اور موجودہ حکومتوں کی طرف سے پاور سیکٹر پر عدم توجہی کی وجہ سے اس وقت سرکولر ڈیٹ 2600 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، صوبہ بلوچستان میں 440 ارب روپے صارفین کے ذمے واجب الادا ہیں،اس وقت ساڑھے چھ لاکھ منظور شدہ کنکشنز سے زیادہ بجلی چوری کے کنکشنز چل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یونین کی جانب سے دائر رِٹ پٹیشن نمبر 555/2005 کے فیصلے میں عدالت عالیہ بلوچستان نے چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس سمیت دیگرحکام کا ہدایات دی تھیں کہ وہ بجلی چوری روکنے اور ریکوری اہداف حاصل کرنے کیلئے کیسکو کی مدد کریں جس پر یونین نے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹوریٹ کو بجلی چوری کی روک تھام اور ریکوری میں کیسکو کی مدد کیلئے متعددخطوط تحریر کیے لیکن 2013ء میں فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے ایک خط کے ذریعے بلوچستان میں لاء اینڈ آرڈر کی ابتر صورتحال کی وجہ سے کیسکو کی مدد کرنے سے معذور ی ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے نے کیسکو کے آفیسرز کی ملی بھگت سے کیسکو کے ایس ڈی او سمیت دیگر پانچ ملازمین کو غیر قانونی طور پر اپنے ڈائریکٹوریٹ میں تعینات کیا ہوا ہے اس وقت ایف آئی اے بجلی چوری کی روک تھام اور ریکوری میں کیسکو کی مدد کرنے کے بجائے بجلی کے بل دینے والے صارفین کے ساتھ زیادتیاں کر رہا ہے اور اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایف آئی اے نے اپنے ایک فرنٹ مین ریٹائرڈ چوکیدار کے ذریعے کیسکو کے دفاتر سے بھتے طلب کرنا شروع کر دیے ہیں یہی وجہ ہے کہ سی بی اے یونین نے کیسکو کے آفیسران اور ایف آئی اے کی ملی بھگت کے خلاف آواز بلند کی جس پر 23 فروری کو یونین کے صوبائی جوائنٹ سیکریٹری محمد یار علیزئی کو گرفتار کیا گیا تاکہ وہ کیسکو اور ایف آئی اے کے آفیسروں کی ملی بھگت کے خلاف یونین کی آواز کو دبا سکیں اور یونین رہنماء کو بغیر کسی انکوائری کے حبس بے جاء میں رکھ کر اور 24 گھنٹے تک مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہ کرکے ایف آئی اے حکام نے ایف آئی آر میں اپنے غیر قانونی کام کو خود تسلیم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریجنل اسٹور کے اسکریپ کی نیلامی سے یونین کا کوئی تعلق نہیں ہے نیلامی آفیسران کرتے ہیں، منظوری آفیسران دیتے ہیں، آفیسران کی کمیٹی کے ذریعے نیلامی کا سامان ٹھیکہ دار کو دیا جاتا ہے اور منیجر سیکورٹی کے سیکورٹی گارڈز کی اجازت سے مال باہر جاتا ہے لیکن اس کیس میں آفیسران کے ساتھ سازباز کرکے یونین رہنماء اور نچلے درجے کے کمزور ملازمین کو حبس بے جاء اور کئی دن سے حراست میں رکھ کر ایف آئی اے حکام ڈائریکٹر عبدالحمید بھٹو، مزمل جتوئی اور طارق محمود قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اغوا برائے تاؤان کے کیس میں ملوث ہوئے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ سابق ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے دور میں کچے کے علاقے میں ڈاکو دن دیہاڑے عام شہریوں کو لوٹتے تھے بعد ازاں جب ایک سیاسی پارٹی کی حکومت وفاق اور سندھ میں آئی تو ان میں سے اکثر ڈاکوؤں کو سرکاری دفاتر میں کھپایا گیا آج ایف آئی اے کا ڈائریکٹوریٹ کچے کا علاقہ بن چکا ہے اس دفتر سے اغوا برائے تاوان کیلئے لوگ نکلتے ہیں اور جو اغوا برائے تاوان کا انکاری ہوتا ہے تو اس کی عزت پامال کرکے اسے عبرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ یونین نے 28 فروری سے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے۔یونین رہنماؤں نے وزیراعظم، وفاقی وزیر داخلہ، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، گورنر بلوچستان، وزیر اعلیٰ بلوچستان، کورکمانڈر بلوچستان اور سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ یونین رہنماء محمد یار علیزئی کی گرفتاری سے متعلق اعلیٰ سطحی انکوائری کرواکراس بوگس کیس میں ان کی رہائی عمل میں لائی جائے اور ڈائریکٹر ایف آئی اے سمیت اس واقعے میں ملوث آفیسروں کو ملازمت سے برطرف کرکے بلوچستان کی مخدوش صورتحال میں مزدوروں کو انصاف فراہم کیا جائے کیونکہ گزشتہ چند سالوں میں کیسکو کے 128 مزدوردوران ڈیوٹی شہید اور سینکڑوں معذور ہوچکے ہیں اور آئے روزانھیں بااثر بجلی چوروں سے مار پیٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اب ایف آئی اے حکام بھی کیسکو کے ملازمین کے اغوا برائے تاوان اورانھیں حبس بے جاء میں رکھنے کی کارروائی میں ملوث ہوئے ہیں۔ یونین رہنماؤں نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ ڈبل شہریت رکھنے والے اور بیرون ملک رہائش پذیرارب پتی 22 ہزار آفیسروں کی پنشن کو فوری طور پر ختم کرکے پنشن کے اخراجات میں کمی لائے اور صوبہ بلوچستان کے تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کو زندہ رہنے کیلئے اعزازیہ مقرر کرے اور انھیں ہنر مندی سیکھا کر روزگارفراہم کرے تاکہ صوبے میں بد امنی کی جاری لہر پر قابو پایا جاسکے۔ یونین رہنماؤں نے کہا کہ اگروزارت واپڈا، وزارت پاور اور کیسکو حکام ان کے جائز مسائل حل نہیں کرتے اور15% ڈی آر اے الاؤنس اور 44% ہاؤس ایکوزیشن کی منظوری، ملازمین کے پروموشن، اپ گریڈ ایشن، شہیدوں اور معذوروں کے کمپن سیشن، معیاری ٹی اینڈ پی، پی پی ای کی فراہمی، غیر معیاری سامان کی خریداری کی روک تھام، کالونیوں میں کوارٹرز کی تعمیر،نچلے اسٹاف کی بھرتیاں، دوران کام شہید ہونے والے کارکنوں کی انکوائری میں یونین کو نمائندگی دے کر ذمہ داروں کے خلاف انکوائری اور محمد یار علیزئی اور دیگر واپڈااہلکاروں کی فوری طور پر باعزت رہائی نہیں ہوتی تو احتجاج کا سلسلہ کل بھی جاری رہے گا اور مورخہ 04 فروری 2022ء کو کیسکو کوئٹہ کے تمام مزدور چیف ایگزیکٹو آفس کوئٹہ میں مظاہرے میں شریک ہوں گے اور پورے بلوچستان کے دفاتر میں بھی کیسکو کے مزدورکام سے بائیکاٹ کرکے مطالبات پیش کریں گے۔


