اوتھل، درختوں کی کٹائی عروج پر ، شہر ٹمبر مافیا کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا

اوتھل:لسبیلہ میں درختوں کی کٹائی عروج پر سبز جنگل کو ٹمبر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ضلع لسبیلہ میں ایک جانب پودے لگا کر ضلعی انتظامیہ کیجانب سے پلانٹ فار پاکستان منایا جاتا ہے تو دوسری جانب محکمہ جنگلات کی ملی بھگت سے جنگلات کی بے دریغ کٹائی عروج پر پہنچ گئی ہے،ہر روز رات کے اندھیرے میں درجنوں گاڑیاں قیمتی درختوں سے لوڈ ہوکر کراچی کیجانب رواں دواں دکھائی دیتی ہے،ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ان گاڑیوں سے محکمہ جنگلات کیجانب سے 16 سے 15 ہزار فی لوڈ لیا جاتا ہے،سوچا جائے تو درخت زندگی کو بحال رکھتے ہیں۔ یہ ہمیں وہ صاف ہوا فراہم کرتے ہیں جس میں ہم سانس لیتے ہیں، ٹھنڈی چھاں دیتے ہیں جس کے تلے ہم بیٹھتے ہیں اسی طرح قیمتی درختوں کی کٹائی جاری رہی تو لسبیلہ کو میدانی علاقے میں تبدیل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا،ایک جانب وزیراعظم گرین پاکستان کو فروغ دے رہے ہیں تو دوسری جانب ان کے ویژن کو محکمہ جنگلات لسبیلہ کے آفیسران و اہل کاران نے ردی کی ٹوکری میں پھینک کر سبز درختوں کی کٹائی اور سبز جنگل کو ٹمبر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔لسبیلہ کے شہروں اوتھل،لاکھڑا،بیلہ میں درختوں کے دلکش نظارے ، خوبصورت موسم ، چاروں جانب پھیلی ہریالی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے،اوتھل کے نواحی علاقوں میں درختوں کی باقیات جنگلات کی تباہی کی خوفناک داستان بیان کررہی ہے محکمہ جنگلات کی کارکردگی اور جنگلات کی حفاظت کے حکومتی دعوے سوالیہ نشان بن گئے،لسبیلہ کے عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی میں ملوث افراد اور محکمہ جنگلات کے ذمہ داران کیخلاف سخت نوٹس لیکر ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں