کیاکورونا صہیونی سازش ہے؟


امریکی شہر نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو کے ایک حالیہ بیان نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں صہونیوں نے کردار سے متعلق بڑا تنازعہ پیدا ہوگیا ہے نیویارک سٹی نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں خبردار کیا کہ نیو یارک میں رہنے والے یہودی اور دیگر لاک ڈاؤن کی پاسداری کریں ان انتظامیہ کے ساتھ سختی سے نمٹے گی، میئر کی ٹیوئٹ پر امریکہ میں بااثر یہودی لابی میں ردعمل آنا شروع ہو گیا ہے لیکن امریکہ سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں صہیونی کردار کے بارے میں بڑے پیمانے پر بحث کا آغاز ہوگیا ہے واضح رہے کہ چین نے کورونا وائرس پھیلانے کیلئے امریکہ پر الزام عائد کیاتھا اور اب اس نے اس امریکی خاتون فوجی کا نام بھی لے لیا ہے جس نے چین میں فوجی کھیلوں کے دوران مبینہ طورپر کورونا وائرس چین میں منتقل کیا تھا چینی ریزوفوجی مائجی نیاسی کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ ان کا تعلق صہونیوں کے ساتھ ہے اب نیو یارک کے میئر کے بیان کے بعد بین الاقوامی معاملات میں اسرائیل کے منفی کردار اور خاص طور پر حیاتیاتی جنگ کے پھیلانے میں اس کے رویے پر زیادہ سنجیدہ بحث کا آغاز ہوگا دوسری جانب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ روز اول سے مرض کو روکنے پر توجہ دینے کی بجائے چین کے خلاف الزام تراشی اور بے جاپروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج امریکہ اس وباء سے سب سے زیادہ متاثر ہے اور وہاں اب تک دس لاکھ 35ہزار765افراد کورونا کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ59ہزار266افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اس کے علاوہ لاک ڈاؤن کے نتیجے میں کروڑوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں کورونا کی وجہ سے جانی نقصان ہو یا معاشی زوال پذیر اس کے اثرات کسی ایک یا دو ملک پر نہیں دنیا کے تمام ممالک پر پڑرہے ہیں اور بنی نوع انسان کو اس چیلنج سے نمٹنے اور ایک نئی زیادہ صحت مند اور ترقیافتہ دنیا کے حصول کے لئے انسان کی عالمگیر اور مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے یہ بات صاف ہوچکی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام انسان کو کسی مشکل وقت میں تحفظ فراہم کرنے ہیں بری طرح ناکام رہا ہے یہ بات بھی واضح ہے کہ آنے والے وقتوں میں ہر صحت مند معاشرے میں تعلیم اور صحت کو ترجیحی اہمیت حاصل ہوگی اور اسے یقینی بنانے کے لئے مرکزیت اور ریاست کے کردار میں اضافہ کرنا ہوگا نجی ملکیت کے کردار میں تخفیف وقت کا لازمی تقاضا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں