حق دو تحریک کی مقبولیت سے کچھ عناصر گھبرائے ہوئے ہیں، مولانا ہدایت الرحمن
گوادر (بیورورپورٹ) غیر قانونی ٹرالرنگ کا خاتمہ اور بارڈر تجارت کی آزادانہ اجازت حق دو تحریک کے اہم مطالبات ہیں۔ ساحل بلوچستان کو غیرقانونی ٹرالرنگ سے پاک اور کنٹانی ھور میں تجارت کی آزادانہ اجازت دی جائے۔ گوادر پورٹ پر احتجاج اٹل ہے۔ 16 مارچ کو تاریخی احتجاجی موٹر سائیکل ریلی نکالی جائے گی۔ حق دو تحریر کی مخالفت وہ عناصر کررہے ہیں جو عوامی اعتماد کھوچکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار حق دوتحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ، بزرگ سیاسی رہنماءحسین واڈیلہ اور حق دوتحریک گوادر کے آرگنائزر شریف میانداد نے بلوچ وارڈ گوادر میں کارنر جلسہ سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرالر مافیا نے کراچی پورٹ کے چینل بندکرکے بلوچستان میں غیرقانونی شکار کا لائسنس حاصل کیا ہے۔ یہ ملک میں ایک عجب روایت چل پڑی ہے کہ قانون شکنی کرنے والے احتجاج کرکے غیرقانونی کام کی ضمانت چاہتے ہیں جو ان کو دے بھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا ساحل لاوارث نہیں کہ اسے ٹرالر مافیا تاراج کرے۔ بلوچستان کا بچہ بچہ اپنے ساحل کی حفاظت کے لئے کمربستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق دو تحریک کی مقبولیت سے کچھ لوگ گھبرائے ہوئے لگتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ماہی گیروں کو انجمنوں میں تقسیم کیا اور یہ عوام کا اعتماد بھی کھوچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ غیرقانونی ٹرالرنگ کا خاتمہ اور بارڈر پر آزادانہ تجارت حق دو تحریک کے بنیادی مطالبات میں سے اہم مطالبے ہیں لیکن نااہل صوبائی حکومت اس حوالے سے پس و پیش کررہی ہے۔ آرمی چیف نے بارڈر کی تجارت کے لئے قومی شناختی کارڈ کی شرط عائد کی ہے مگر ضلعی انتظامیہ مخصوص کارڈ کے اجراءپر مصر ہے جس کو حق دوتحریک مسترد کرتی ہے۔ ڈی سی گوادر، ایم پی اے ٹولہ کو منفعت پہنچانے کی بجائے تمام کاروبار کرنے والوں کا مفاد سامنے رکھے اب اگر ڈی سی گوادر کے آفس کے سامنے دھرنا ہوگا تو طویل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مارچ کی 16 تاریخ کو تاریخی احتجاجی موٹرسائیکل ریلی نکالی جائے گی اور 17 مارچ کو گوادر پورٹ کی طرف مارچ کرینگے اور پورٹ چینل کو بھی کشتیاں اور لانچیں کھڑی کرکے بند کیا جائے گا۔ کارنر جلسہ سے شکیل کے ڈی نے بھی خطاب کیا۔


