پاکستان کی میزائل فائرکرنے پر بھارتی وضاحت ناکافی قرار
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹرمعید یوسف نے کہا ہے کہ 9مارچ کو پاکستان میں جدید ترین سپر سونک میزائل داغنے کے واقعے کو معمول کی دیکھ بھال کے دوران ایک حادثہ قراردینے کی بھارت کی بغیر کسی ثبوت کے سادہ وضاحت ناکافی ہے اور دنیا کیلئے ناقابل قبول ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر معید یوسف نے متعدد ٹویٹس میں کہا ہے کہ پاکستان میں جدید ترین سپر سونک میزائل داغنے کے ردعمل میں ہم نے کشیدگی سے بچنے کیلئے ذمہ داری سے کام لیا ہے انہوں نے کہاکہ بھارت نے ایک غیر ذمہ دار اور ناقابل اعتبار ریاست کا کردار ادا کیا ہے انہوں نے کہاکہ اس سنگین صورتحال کے تناظر میں بھارتی ردعمل تشویشناک ہے اورصرف شفاف مشترکہ تحقیقات کے ذریعے مطلوبہ سوالات کے جواب مل سکتے ہیں۔ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ ہم بھارت اور دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ ایک انتہائی جدید ترین سپرسونک میزائل تھا جس سے پاکستان میں جانی نقصان ہوسکتا تھا اور اس کے نتیجہ میں دو جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی تھی انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر ساری دنیا کو یہ خود دیکھ لینا چاہئے کہ ذمہ دار ریاست کون سی ہے واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کی صدرکو لکھے گئے ایک خط میں بھارت سے 9مارچ کو پاکستان میں بھارتی سپر سونک میزائل گرنے کے واقعہ کی مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے بھارت کی طرف سے اس واقعہ کی اپنے تئیں تحقیقات کو مسترد کر دیا تھا. یہ خط2ایجنڈا کے تحت سلامتی کونسل کے تمام ارکان میں سرکاری دستاویز کے طور پردو ایجنڈا آئٹم کے طور پر تقسیم کیا گیا، پہلا ایجنڈا آئٹم امن و سلامتی کو برقرار رکھنے میں سلامتی کونسل کی ذمہ داری اور دوسرا ایجنڈا آئٹم انڈیا پاکستان پرسوال ہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رواں ماہ صدرومتحدہ عرب امارات کی سفیر لانا زکی نصیبہ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کو لکھے گئے خط میں بھارت کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھاکہ بھارتی حکام کی جانب سے پیش کردہ سادہ وضاحت کے ساتھ اس طرح کے سنگین معاملے کو حل نہیں کیا جا سکتا ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی فضائی حدود کی اس سخت خلاف ورزی جو بین الاقوامی ایوی ایشن سیفٹی پروٹوکول کی بھی خلاف ورزی ہے کی شدید مذمت کرتا ہے اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ واقعات بھارت کی ایئر سیفٹی اور علاقائی امن و استحکام کی طرف غیر سنجیدہ رویہ کے بھی عکاس ہیں. پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ میزائل فائر کئے جانے کا یہ واقعہ بھارت کے غیر مہ دارانہ طرز عمل سے مطابقت رکھتا ہے جس کا عالمی برادری اور خاص طور پر سلامتی کونسل کی جانب سے فوری نوٹس لینے کی ضرورت ہے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حدود میں بھارتی میزائل گرنے سے نہ صرف شہریوں کی جائیدادوں کو نقصان پہنچا ہے بلکہ لوگوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا گیا خط میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی حدود میں میزائل فائر کے واقعہ سے بڑے پیمانے پر لوگوں کی جانیں بھی جا سکتی تھی. پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے معاملے میں دونوں ملکوں کے درمیان بہت کم فاصلے اور ردعمل کے اوقات کے پیش نظر ایک دوسرے کی فوجی کارروائیوں کی کسی بھی طرف سے غلط تشریح خطے اور درحقیقت پوری دنیا کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی توجہ بھارت کے مسلسل جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات اس کے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی تیاری کے ساتھ ساتھ اس کے جارحانہ فوجی اصولوں اور طاقت کے انداز کی طرف مبذول کرائی جو ہمیشہ سے جنوبی ایشیا میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے موجود خطرہ ہیں. انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ حادثاتی میزائل لانچنگ کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات اور طریقہ کار کی وضاحت کرے اور اس واقعہ کے مخصوص حالات، پاکستانی حدود میں گرنے والے میزائل کی قسم اور خصوصیات اور حادثاتی طور پر لانچ کیے گئے میزائل کی پرواز کا راستہ/ٹریجیکٹری اور یہ آخر کار کیسے مڑ کر پاکستان میں داخل ہوا اس کی وضاحت کرے نیز یہ بھی کہ اس میزائل میں خود کو تباہ کرنے کا سسٹم موجود تھا یا نہیں اوراگر موجود تھا تو یہ ناکام کیوں ہوا اور یہ بھی کہ کیابھارتی میزائلوں کو معمول کی دیکھ بھال کے تحت بھی لانچ کیا جاسکتا ہے پاکستانی وزیر خارجہ نے سوال کیاتھا کہ بھارت نے حادثاتی طور پر میزائل فائر ہونے سے متعلق پاکستان کو فوری طور پر کیوں آگاہ نہیں کیااور پاکستان کی جانب سے اس واقعہ کے رونما ہونے کا اعلان اور وضاحت طلب کرنے تک اس کا اعتراف کرنے میں کیوں انتظار کیا نااہلی کی گہری سطح کو دیکھتے ہوئے بھارت کو یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی میزائل کو اس کی مسلح افواج نے ہینڈل کیا تھا یا اس میں کوئی روگ عناصر ملوث تھے؟وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خط میں اس عزم کابھی اعادہ کیا تھاکہ پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی امن کی خواہش، اپنے دفاع کے لیے مضبوط عزم اور صلاحیت کے ساتھ ہے، جسے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت حقوق کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔


