پاکستان کو چین کے ذریعے انٹرنیٹ کا متبادل راستہ مل گیا

اسلام آباد (انتخاب نیوز) پاکستان کو چین کے ذریعے انٹرنیٹ کا متبادل راستہ مل گیا، راولپنڈی سے خنجراب تک 1092کلومیٹرآپٹیکل فائبر کیبل مکمل،راولپنڈی سے گوادر اور کراچی تک 37.9ارب روپے لاگت آئیگی ،15% مقامی اور 85% غیر ملکی فنڈز ،پاک چین کیبل کی کل لمبائی 5255کلومیٹر، افغانستان اور ایران کے درمیان علاقائی روابط بھی قائم ہونگے۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق پاک چین آپٹیکل فائبر کیبل منصوبہ چین اور پاکستان کو زمینی رابطوں کے ذریعے جوڑ رہا ہے جو ٹیلی کام کے شعبے میں بین الاقوامی کاروباری افراد کو راغب کرے گااور چین کے ساتھ لینڈ لائن انٹرنیٹ سروس کے ذریعے رابطے کا ایک بہترراستہ فراہم کرے گا۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن نے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کو منسلک کیا ہے جو اسے چین سے بھی جوڑتا ہے۔یہ منصوبہ حال ہی میں چین پاکستان اقتصادی راہداری پروگرام کے تحت مکمل کیا گیا ہے جس کے تحت چین کے ساتھ پہلی بار زمینی رابطہ قائم کرنے کے لیے راولپنڈی سے خنجراب اور کریم آباد سے خنجراب تک تقریبا 1,092 کلومیٹرآپٹیکل فائبر کیبل بچھائی گئی ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت چین تک اسکی کل لمبائی، 5,255کلومیٹر ہے اور اس میںمالی سال 2021 کے دوران 2.4 فیصد اضافہ ہوا۔نیاٹیل کے سی ای او وہاج سراج نے ویلتھ پاک کو بتایا کہ چین کے ساتھ زمینی کیبل کنکشن پاکستان کو ایک متبادل انٹرنیٹ روٹ فراہم کرے گا اور مواصلات کے ذرائع کو متنوع بنائے گا۔اگر سمندری کیبل میں کوئی خلل پڑتا ہے تو پاکستان زمینی کنکشن کی شکل میں ایک مختلف روٹ سے متبادل کنکشن استعمال کرے گا،انہوں نے مزید کہایہ ٹیلی کمیونیکیشن میں ایک بڑی پیش رفت ہوگی کیونکہ چین کے اندرونی انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے اور فی الحال یہ انٹرنیٹ صارفین کا عالمی مرکز ہے۔انہوں نے کہا کہ آپٹیکل فائبر کیبل عام طور پر وہاں استعمال ہوتی تھی جہاں دو ممالک لینڈ لاک ہوتے تھے۔ پاکستان پہلے ہی زمینی کیبل کے ذریعے افغانستان سے اور سی پیک کے ذریعے چین کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری فائبر کیبل کے مقابلے میں زمینی کیبل سستی ہے۔سالانہ رپورٹ کے مطابق 2018 میں پاک چین آپٹک فائبر کیبل منصوبہ شروع کیا گیاتھاجس کے تحت پاکستان میں سی پیک تجارتی راہداری میں مستقبل میں انفارمیشن کمیونیکیشن اینڈ ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے کثیر جہتی مواقع ہیں۔ چینی لنک آپریشنل ہے اور اس وقت چائنا موبائل انٹرنیشنل زونگ چین سے یورپ اور چین سے پاکستان تک ٹریفک لے جا رہا ہے۔ دریں اثنامشرق وسطی، افریقہ اور یورپ کے مختلف مقامات تک زیادہ ٹریفک کے لیے چینی آپریٹرز کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ منصوبے کے فیز ٹومیں راولپنڈی سے کراچی اور گوادر تک اس نیٹ ورک کی توسیع شامل ہے۔ پی ٹی اے کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے 30 اپریل 2021 کو گلگت میں اس منصوبے کا افتتاح کیاتھا۔ اس مرحلے میں راولپنڈی سے گوادر اور کراچی تک سی پیک روٹ پر 37.9ارب روپے کی لاگت آئیگی جس میں 15% مقامی اور 85% غیر ملکی فنڈز ہوں گے۔ یہ منصوبہ ایک قومی انفراسٹرکچر بنائے گا اورغیر ملکی انفراسٹرکچر پر انحصار کم ہوگا۔ یہ چین اور ہمسایہ ممالک افغانستان اور ایران کے درمیان علاقائی روابط بھی فراہم کرے گااور پاکستان کو علاقائی روابط کا مرکز بنائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں