سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے منٹس طلب کرلیے

اسلام آباد (انتخاب نیوز) سپریم کورٹ میں ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس کی سماعت جاری ہے جہاں چیف جسٹس پاکستان نے 31 مارچ کا ڈپٹی سپیکر کا آرڈر طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ ملک میں موجودہ آئینی صورتحال پر ازخود نوٹس کی سماعت کر رہا ہے، دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے 31 مارچ کے اجلاس کے منٹس منگوا لیے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اسپیکر کے وکیل نعیم بخاری اجلاس کے منٹس پیش کریں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت کے بعد بحث کا مرحلہ آتا ہے، تحریک عدم اعتماد کے آئینی یا غیرآئینی ہونے پر بحث ہوئی؟ ہمارے سامنے سوال ہے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی کیا آئینی حیثیت ہے؟ آئین کے احکامات رولز سے بالادست ہوتے ہیں۔دوران سماعت جسٹس منیب اختر ریمارکس دیے کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے طریقہ کار پر آئین خاموش ہے، کیا ایک بار 20 فیصد اراکین کی حمایت سے تحریک پیش ہونے کے بعد اسپیکر کا اختیار نہیں رہتا؟ کیا اسپیکر تحریک پیش ہونے پر صرف ووٹنگ کراسکتا ہے؟۔سپریم کورٹ میں سماعت کے موقع پر خاتون وکیل نے فریق بنانے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ سارا مسئلہ جس کی وجہ سے بنا اس کو بلایا جائے، اسد مجید نے خط لکھا ان کو بلایا جائے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ فریق بننے کی درخواستیں نہیں سن رہے آپ بیٹھ جائیں ہم نے سیاسی جماعتوں کے وکلا کو سننا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں