گوادر میں تعلیمی ترقی کیلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی، بی ایس او

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن گوادر زون کے ترجمان کی جانب سے ضلع بھر میں تعلیمی زبوں حالی اور حکومتی عدم توجہ پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ گوادر میں تعلیمی اداروں کی بہتری پر حکومتی اقدامات ناقص ہیں۔ ترجمان نے کہا ہے کہ اس وقت گوادر کے ملکی و بین الاقوامی سطح پر جس طرح عالمی شہر ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن یہاں کی تعلیمی ترقی کیلئے کسی بھی قسم کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے۔ اس وقت اورماڑہ، پسنی، جیونی سمیت بیشتر علاقوں کے درجنوں پرائمری اسکولوں میں اساتذہ نہیں جس سے ان علاقوں کے بچے بنیادی تعلیم ہی سے محروم ہیں۔ جبکہ مڈل و ہائی اسکولوں کو ایک ہی ٹیچر پر چلایا جارہا ہے۔ درجنوں مڈل و ہائی اسکول عمارت اور اسٹاف سے محروم ہیں۔ ترجمان نے کہا ہے کہ اسکولوں کی حالت زار پر بارہا تنظیم کی جانب سے متعلقہ ذمہ داران سمیت منتخب نمائندوں اور محکمہ تعلیم کو آگاہ کیا لیکن زبانی جمع خرچ کے سوا عملی اقدامات نہیں اٹھائے جاسکے۔ کاغذوں پر تعلیمی بہتری کے دعوے تو کیے جاتے ہیں لیکن زمینی سطح پر نظام تعلیم بدترین تباہ حالی کا شکار ہے۔ بی ایس او گوادر زون کے ترجمان نے بوائز و ڈگری کالجز، گرلز کالج جیونی، انٹرکالج پسنی اور اورماڑہ انٹر کالج میں اساتذہ کے شدید فقدان کو بھی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کالجز میں سائنسی و سوشل سائنسز مضامین کے اساتذہ کا نہ ہونا حکومتی عدم دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ گوادر ڈگری کالج میں ضروری مضامین کے اساتذہ کو سیکرٹری ایجوکیشن کے حکم پر زبردستی تبادلہ کرکے انہیں دوسرے اضلاع میں تعینات کرنا بھی سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ پہلے ہی سے یہاں اساتذہ کا فقدان ہے۔ ترجمان نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے علاقائی نمائندگان، محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ کاغذی کارروائیوں سے نکل کر تعلیمی میدان میں عملی اقدامات اٹھائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں