مسلح افواج کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم کی بھرپور مذمت کر تے ہیں، علماء کونسل

اسلام آباد (انتخاب نیوز) پاکستان علما کونسل اور ملک بھر کے علما و مشائخ نے پاکستان کے سلامتی کے اداروں اور مسلح افواج کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیہ کی مکمل تائید و حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سلامتی کے ادارے پاکستان کی وحدت، اتحاد اور قومی عظمت کی علامت ہیں۔پاکستان کی مسلح افواج اور سلامتی کے اداروں کے خلاف مہم چلانے والے پاکستان کے دوست نہیں ہو سکتے۔ ملک بھر کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور کارکنان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ صبر و تحمل اور رواداری کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی قسم کی فیک نیوز،بے بنیاد خبر یا پراپیگنڈہ کے زیر اثر ملک کے اندر انتشاور اور فساد کی کوششوں کوکامیاب نہ ہونے دیں۔پاکستان علما کونسل اور ملک بھر کے علما و مشائخ نے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور کارکنان سے اپیل کی کہ وہ صبر، تحمل اور رواداری کا مظاہرہ کریں اور ملک کے اندر عدم برداشت کے رویوں کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، متحدہ جمعیت اہل حدیث کے سربراہ مولانا سید ضیا اللہ شاہ بخاری، متحدہ علما کونسل پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا محمدنخان لغاری، جمعیت علماء امامیہ کے مولانا غلام اکبر ساقی، مولانا اسعد زکریا قاسمی، علامہ عبد الحق مجاہد، مولانا نعمان حاشر، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا محمد شفیع قاسمی، مولانا اسد اللہ فاروق، علامہ زبیر عابد، مولانا محمد اشفاق پتافی، مولانا عزیز اکبر قاسمی، مولانا محمد اسلم صدیقی،پیر اسعد حبیب شاہ جمالی، علامہ طاہر الحسن، مفتی محمد علی نقشبندی، مولانا ڈاکٹر ابو بکر صدیق، مولانا عمران بشیر، مولانا زبیر کھٹانہ، مولانا سعد اللہ شفیق، مولانا ابو بکر حمید صابری اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ وطن عزیز پاکستان کی سلامتی اور استحکام پاکستان کی فوج، سلامتی کے اداروں اور قوم کے اتحاد سے ہے، ماضی میں بھی پاکستان کی قوم اور فوج کے درمیان غلط فہمیاں اور دوریاں پیدا کرنے کی سازشیں کی گئیں جن کو باہمی اتحاد سے ناکام بنایا گیا۔پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہے لہذا کسی بھی فرد، گروہ یا جماعت کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی کرے۔ انہوں نے کہا کہ جن عناصر نے گذشتہ چند دنوں کے دوران پاکستان کے اندر پاکستان کے سلامتی کے اداروں اور مسلح افواج اور قیادت کے خلاف مہم چلائی ہے ان کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے، علما و مشائخ نے پاکستان علمائکونسل کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کی مکمل تائید و حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں پاکستان علمائنکونسل کی رابطہ کمیٹی کا سیاسی و مذہبی قائدین سے رابطے اور ملاقاتوں کا فیصلہ ایک درست سمت قدم ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے ملک کے اندر انتشار اور فساد پھیلانے والی قوتوں کی خواہشوں کو ناکام بنانے میں مدد ملے گی۔علما و مشائخ نے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف، پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علما اسلام کے مولانا فضل الرحمن اور دیگر تمام قائدین سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے قائدین، اپنے رہنماؤں اور کارکنان کو ہدایات جاری کریں کہ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی سے گریز کیا جائے اور تحمل، برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت انتقام کی بجائیغیر جانبدارانہ احتساب اور ملک کی تعمیر و ترقی کی طرف توجہ دے گی اور نظام عدل اور نظام انتخابات میں اصلاحات کیلئے جلد از جلد اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ پاکستان علما کونسل اور ملک بھر کے علما و مشائخ نے وفاقی شرعی عدالت میں سود کینحوالے سے محفوظ کیے گئے فیصلے کو رمضان المبارک کے دوران سنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اگر سود کے حوالے سے وفاقی شرعی عدالت اپنا فیصلہ سنا دے تو اس سے پاکستانی قوم کو بڑی خوشخبری ملے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں