امریکہ، پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کی ہلاکت پر مظاہرے
نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں ایک سیاہ فام شخص کی ہلاکت پر ریاست مشی گن کے شہر گرانڈ ریپڈس میں گزشتہ 3 دنوں کے دوران مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔یہ مظاہرے بدھ کے روز اس وقت شروع ہوئے جب محکمہ پولیس گرانڈ ریپڈس نے رواں ماہ کے آغاز پر ایک اہلکار کے پیٹرک لیویا کے ساتھ تصادم کی متعدد ویڈیوز جاری کیں جن میں 2 ایسی ویڈیوز بھی شامل ہیں جن میں ٹریفک رکنے کے بعد مزاحمت کے دوران لیویا کو جان لیوا گولی لگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔عوامی جمہوریہ کانگو سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ پناہ گزین پیٹرک لیویا کو مختصر تعاقب کے بعد پولیس اہلکار کے ساتھ مزاحمت کے دوران گرانڈ ریپڈس میں اسکے گھر کے سامنے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پولیس اہلکار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔مقامی ٹی وی چینل ڈبلیو زیڈ زیڈ ایم نے بتایا ہے کہ بدھ کی شب واقعے کی ویڈیوز جاری ہونے کے بعد سینکڑوں افراد نے شہر کے مرکز میں گرانڈ ریپڈس پولیس اسٹیشن کا گھیرا کرتے ہوئے نعرہ بازی کی اور پیٹرک لیویا کو گولی مارنے والے اہلکار کا نام ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا۔پیٹرک لیویا کیلئے متعدد مظاہرے اور ریلیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔ منگل کی شام درجنوں افراد نے سٹی کمیشن اجلاس کے باہر ریلی نکالتے ہوئے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ گرانڈ ریپڈس میں کمیونٹی ورکرز جمعہ کو شہر کے مرکزی علاقے کے روزا پارکس سرکل میں جمع ہوئے ۔ گروہ نے اپنے مطالبات کے حق میں شہر کے مرکزی علاقے میں محکمہ پولیس گرانڈ ریپڈس کے ہیڈکوارٹر تک مارچ کیا۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پولیس کے ہاتھوں جارج فلائیڈ اور دیگر سیاہ فام افراد کی ہلاکتوں کے بعد حالیہ برسوں کے دوران امریکہ بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ رواں سال امریکہ بھر میں پولیس مقابلے کے 255 واقعات ہو چکے ہیں۔


