نوکنڈی، دالبندین، ماشکیل اورتفتان میں لوگ ذریعہ معاش سے محروم
نوکنڈی (انتخاب نیوز) ضلع چاغی اورواشک خصوصاتحصیل نوکنڈی دالبندین ماشکیل اورتفتان ایسے علاقے ہیں جہاں نہ کوئی کارخانہ ہے اور نہ ہی زراعت کو فروغ دیا گیا ہے اور نہ روزگار کا کوئی اہم ذریعہ، ان علاقوں کا واحد ذریعہ معاش جو قیام پاکستان سے قبل چلی آرہی تھی وہ ان علاقوں سے منسلک ایران و افغانستان کے بارڈر پرتیل و دیگر اشیا کا کاروبار تھا جس سے پورے علاقہ کے لوگوں کے گھروں میں چولہے جل رہے تھے، گزشتہ نو مہینوں سے بارڈرزپرباڑلگانے کے بعد کاروبار بندکردیاگیا جس سے ان تمام علاقوں میں بیروزگاری بڑھ گئی رپورٹ کیمطابق ان علاقوں میں چوری وڈکیتی کے اور دیگرواقعات میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ جب لوگ بیروزگاری کا شکار ہونگے تو چوری ڈکیتی ودیگرسماجی برائیوں کاشکارہونگیعوامی حلقوں نے صوبائی حکومت اورآرمی چیف سے اپیل کیاکہ تحصیل نوکنڈی دالبندین ماشکیل اور پورے رخشان بیلٹ کے لوگوں کوروزگارجاری رکھنے کے لئے ایران و افغانستان بارڈرزکوسابقہ ادوار کی طرح آزادانہ کاروبار کی اجازت دیں تاکہ لوگ فاقہ کشی اور سماجی برائیوں سے بچایا جاسکے۔


