بلوچستان اراکین اسمبلی کا چاغی سانحہ کیخلاف احتجاج، جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اراکین اسمبلی کا چاغی میں مظاہرین پر فائرنگ پر احتجاج جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ، حکومتی ارکان کا خواجہ آصف کی تقریر پر تحفظات کا اظہار، ایوان نے بلوچستان جنگلات اوربلوچستان چیرٹیز رجسٹریشن ریگولیشن اینڈ فیسلٹیشن کے مسودات قوانین کی منظوری دے دی، منگل کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس چالیس منٹ کی تاخیر سے پینل آف چیئرمین کے رکن قادر علی نائل کی صدارت میں شروع ہوا اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے احمد نواز بلوچ نے پوائنٹ آف آرڈرپر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چاغی اور رخشان ڈویژن میں انسانی حقوق کی پامالی کے مسلسل واقعات ہورہے ہیں گزشتہ دنوں نوکنڈی میں جو واقعہ رونما ہوا تھا اس کیخلاف گزشتہ رو زجب ایک ریلی نکالی گئی تو ایک بار پھر فورسز کی فائرنگ سے متعدد افراد زخمی ہوئے جس کی مذمت کرتے ہیں حکمران عوام کو روزگار تو فراہم نہیں کرسکتے مگر ان پر گولیاں برسائی جاتی ہیں انہوں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیامیں بھی واقعہ کی کوریج نہ ہونے کی مذمت کی صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے پوائنٹ آف آڈر پر دو روز قبل قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماء خواجہ آصف کے ریمارکس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں جمہوری انداز میں ایک حکومت تبدیل ہوئی ہم نے کوئی لوٹے ہیں بنائے مگر آپ نے وفاق میں لوٹوں کیساتھ ملکر حکومت بنائی ہم نہ تو لوٹے اسمبلی میں لائے اور نہ ہی اس طرح کا کوئی رویہ اپنایا بلوچستان میں ایک جمہوری تبدیلی بہتر انداز میں آئی آج بھی صوبے میں وزیراعلیٰ بلوچستان عوامی پارٹی کے ہیں، انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں ایک سابق وزیراعلیٰ سابق اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو بے عزت کیا گیا جبکہ ہمارے یہاں یہ سب تبدیلی جمہوری انداز میں آئی،اجلاس میں پشتونخوامیپ کے نصراللہ زیرے نے توجہ دلاوؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے وزیر برائے محکمہ توانائی سے استفسار کیا کہ بلوچستان انرجی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کون ہیں اور ان کو بورڈ آف گورننگ کتے ارکان پر مشتمل ہے ان کے نام بمعہ ولدیت اور لوکل سرٹیفکیٹ کے مکمل تفصیل فراہم کی جائے تاہم اس موقع پر متعلقہ وزیر کی غیر موجودگی پر پینل آف چیئرمین کے رکن قادر علی نائل نے توجہ دلاو نوٹس موخر کرنے کی رولنگ دی۔ اجلاس میں سردار مسعود علی خان لونی نے بلوچستان جنگلات کا مسودہ قانون جبکہ پارلیمانی سیکرٹری ماجبین شیران نے بلوچستان چیرٹیز رجسٹریشن ریگولیشن اینڈ فیسلٹیشن کے مسودہ قانون ایوان میں پیش کئے جن کی ایوان نے منظوری دی۔ بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں ہم نے بلوچستان کے علاقے نوکنڈی میں فائرنگ سے حمید بلوچ کی شہادت اور دیگر پانچ افراد کے زخمی ہونے کے واقعہ کیخلاف ایوان کی توجہ مبذول کرتے ہوئے مطالبہ کرائی تھی گزشتہ روز ایک مرتبہ پھر حمید بلوچ کی شہادت کیخلاف پرامن مظاہرہ کرنے والوں پر ایک مرتبہ پھر فائرنگ کیا گیا جس میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے بچوں کی کفالت کیلئے سرحدی تجارت سے منسلک افراد پر گولیاں برسائی جارہی ہیں انہوں نے کہا کہ خشک سالی کے باعث متبادل روزگار نہ ہونے سے لوگوں نے سرحدی تجارت کا سلسلہ شروع کیا صوبے کی طول وعرض سے لاکھوں شہری اس کاروبار سے منسلک ہیں تاہم بیک جنبش سرحدی تجارت کو بندکردیا گیا ہے ہم نے پہلے بھی مطالبہ کیا کہ سرحد کو تجارت کیلئے کھول کر اگر اس کاروبار کو قانونی شکل دی جائے۔ انہو ں نے مطالبہ کیا کہ فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنائی جائے۔ بی این پی ہی کے رکن اسمبلی میر محمد اکبر مینگل نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں واقعہ کی تحقیقات کیلئے اگر جوڈیشل کمیشن تشکیل دی جاتی تو گزشتہ روزہونے والا واقعہ پیش نہیں آتا،صوبائی مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ کمشنر رخشان ڈویژن سے واقعہ کی رپورٹ طلب کی ہے واقعہ ایسے پیش آیا کہ ایک ایرانی گاڑی کے ڈرائیور کو سیکورٹی فورسز نے رکھنے کا اشارہ کیا تاہم نہ رکنے پر فائرنگ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی اپنی اور سیکورٹی فورسز کی اپنی رائے ہے اس سے قبل تربت میں حیاب بلوچ نامی نوجوان کو قتل کرنے میں ملوث اہلکاروں کو عدالتوں سے سزائی ہوئیں پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔انہوں نے اپوزیشن ارکان اسمبلی کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جو بھی اہلکار ملوث پایا گیا کاروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی ہدایت پرمعاملہ کی تحقیقات کیلئے جی آئی ٹی تشکیل دی ہے، جی آئی ٹی کی رپورٹ کو سی ایم آئی ٹی کو بھی پیش کریں گے تاکہ ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔ انہوں نے خواجہ آصف کی حالیہ تقریر کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ خواجہ آصف کی تقریر صوبے کے معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ وفاق میں جس جمہوری طریقے سے ایک حکومت کو تبدیل کرکے میاں شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا گیا اسی جمہوری عمل کے تحت بلوچستان میں بھی حکومت تبدیل ہوئی،انہوں نے کہا کہ جن جماعتوں نے وفاق میں حکومتی تبدیلی کیلئے متحدہ اپوزیشن کا ساتھ دیا انہی جماعتوں نے صوبے میں تبدیلی کیلئے میر عبدالقدوس بزنجو کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وفاق میں حکومتی تبدیلی جمہوری عمل ہے تو بلوچستان میں بھی حکومتی تبدیلی جمہوری عمل تھا۔ بعدازاں پینل آف چیئرمین کے رکن قادر علی نائل نے اجلاس جمعرات 21 اپریل 2022ء سہہ پہر تین بجے تک کیلئے ملتوی کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں