بلدیاتی انتخابات کیلئے بند کمروں میں من پسند حلقہ بندیاں کی گئیں، صادق عمرانی
اوستہ محمد (انتخاب نیوز) پیپلز پارٹی کے مرکزی سینڑل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن سابق صوبائی وزیر میر محمد صادق عمرانی نے کہاکہ نصیرباد میں الیکشن کمیشن اور ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت سے حقیقی بلدیاتی نمائندوں کو عوامی خدمت سے دور رکھنے کیلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان لوکل گورنمنٹ کے رول کے خلاف بند کمروں میں جعلی من پسند حلقہ بندیاں کی گئی ہیں وزرا کے بھائیوں بیٹوں رشتی داروں کو جتوانے کیلئے 80۔148۔151ووٹوں پر مشتمل 30وارڈ بنائی گئی ہیں جبکہ ہمارے حمایتوں کے ووٹوں کو دور دور مختلف وارڈوں میں پھینک دیئے گئے ہیں جن کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے ایسی صورت میں بلدیاتی انتخاب میں واضح دھاندلے کے ثبوت الیکشن سے پہلے سامنے اچھے ہیں ان خیالات کا اظہار ڈسڑکٹ ریٹرننگ آفیسر نصیرباد کو اپنے خدشات سے آگاہ کرنے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا میر صادق عمرانی نے کہاکہ نصیرباد خاص کر میونسپل کمیٹی ڈیرہ مرادجمالی کے 44وارڈوں کی حلقہ بندیاں جھوٹ فراد پر مشتمل ہیں من پسند افراد کو کامیاب کرانے کیلئے رات کی تاریکی میں الیکشن کمیشن اور ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت سے وزرا کے ایما پر جعلی حلقہ بندیاں کی گئی ہیں جن کے خلاف عدالت عالیہ میں جائیں گے انہوں نے الزام عائد کیا کہ الیکشن آفیسر نصیرباد متنازعہ بن چکا ہے الیکشن سے قبل تبادلہ کیا جائے بصورت دیگر پیپلز پارٹی جعلی حلقہ بندیوں کے خلاف سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوجائے گی۔


