سانحہ نوکنڈی و چاغی میں ملوث اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے، بی این پی
نوکنڈی (انتخاب نیوز) بی این پی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن انجینئر ملک محمد ساسولی نے سانحہ نوکنڈی و چاغی کے حوالے سے دالبندین میں منعقدہ ڈویژنل ریویو کمیٹی اجلاس میں شرکت کی جس میں چیف سیکرٹری بلوچستان سمیت سول و فوجی آفیسران بھی موجود تھے انجینئر ملک محمد ساسولی نے بی این پی کی نمائندگی کرتے ہوئے خطاب کیا اور کہا کہ گزشتہ دنوں نوکنڈی اور چاغی میں جو دلخراش سانحہ ہوا ہے جس میں ایک نوجوان حمیداللہ شہید ہوا اس حوالے سے بلوچ نوجوانوں اور بلوچ عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ان سانحات کے بعد بلوچ اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاغی جس نے اپنے سینے میں ایٹمی دھماکہ کرکے پاکستان کے تحفظ کی ضمانت تو دی لیکن آج بلوچ حفاظت سے محروم ہیں۔ انہوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج پوری دنیا میں کیا جاتا ہے، شہریوں نے اپنے ایک بلوچ ڈرائیور کی شہادت پر احتجاج کیا تو کیا ان کو آمنے سامنے گولی ماری جاتی ہے؟ کیا انہیں منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس یا ربڑ کی گولیاں استعمال نہیں ہوسکتی تھیں؟ اسطرح کے عمل سے اداروں اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا ہوجاتی ہیں، ہمیں ایسا تاثر دیا جاتا ہے کہ اپنے بنیادی حقوق پر بات کرنا ہی نہیں چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کوئی اچھا کام کیا جاتا ہے تو اس کیلئے صدقہ دیتے ہیں ہمیں لگتا ہے کہ ریکوڈک شروع کرنے سے پہلے بلوچ قوم سے خون کی قربانی لی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ نوجوان اپنے مشکلات و مسائل کی وجہ سے ان مشکل اور دشوار گزار راستوں کے ذریعے کام کرتے ہیں اگر ملک میں 73سال سے کوئی پالیسی بنائی جاتی جس سے لوگوں کو عزت کیساتھ روزگار ملتا تو کوئی ان مشکل اور دشوار گزار راستوں میں نہیں جاتا، جہاں موت پیاس اور بھوک کی صورت میں بھی ہوتی ہے چوروں نے بھی لوگوں کو قتل کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے لوگوں کیلئے خوشحال ،محفوظ اور عزت دارانہ طریقے سے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ پاک افغان بارڈر کو تجارت کیلئے کھولا جائے مکمل تحفظ کیساتھ یہاں کے لوگوں کو آزادانہ اور عزت کیساتھ کاروبار کرنے دیا جائے۔ انہوں نے اجلاس میں پاک ایران بارڈر کے حوالے سے اپنا مو¿قف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک ایران بارڈر پر ٹوکن سسٹم کو بی این پی مسترد کرتی اور مطالبہ کرتی ہے کہ ٹوکن سسٹم کو مکمل ختم کیا جائے۔ بلوچ قوم بلوچستان کی وارث ہے جہاں اور جس علاقے میں کاروبار کرنا چاہیے انہیں ٹوکن یا دیگر ذریعوں سے تنگ کرنے والے حربوں کا خاتمہ کرکے ایران بارڈر پر آزادانہ کاروبار کے مواقع دیے جائیں۔ انہوں نے روتک کراس پوائنٹ کے حوالے سے کہا کہ اس پوائنٹ پر ہماری مائیں بہنیں اور بھائیوں کو آنے جانے میں مشکلات و اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بلوچ قوم ایک غیرت مند قوم ہے، ہماری بلوچ خواتین، بچوں اور بزرگوں کو اس گیٹ سے عزت و احترام کیساتھ آنے جانے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈہاک ازم میں مسئلے حل نہیں ہوسکتے اگر آج بھی یہ میٹنگ عارضی طور پر بلائی جاتی ہے تو میں یہ ضمانت سے کہہ سکتا ہوں کہ آئندہ بھی اس طرح کے سانحے ہوسکتے ہیں، انہیں کوئی روک نہیں سکتا جو بھی مسائل کے حل کے لیے تجویز ہے ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ انجینئر ملک محمد ساسولی نے کہا کہ قائد بلوچستان سردار اختر جان مینگل اور بی این پی کے مرکزی رہنما و ایم این اے میر ہاشم نوتیزئی کے توسط سے مطالبہ کرتا ہوں کہ سانحہ نوکنڈی و چاغی میں جو پندرہ افراد شدید زخمی اور ایک نوجوان کی شہادت ہوئی ہے انکے قاتلوں کو گرفتار کرکے لیویز کے حوالے کیا جائے، ان کو پاکستانی قوانین کے مطابق تفتیش اور سزا دی جائے۔


