سینیٹ نے آئی پی پیز کو ماہانہ ادائیگیوں کی تفصیلات طلب کرلیں
اسلام آباد (انتخاب نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے آئی پی پیز کو کی جانے والی ماہانہ ادائیگیوں کی تفصیلات طلب کرلیں جبکہ خیبر پختونخوا کے عوام سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں وصولی کئے جانے کے معاملے پر نیپرا حکام کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ نے خیبرپختونخوا میں ایک بہت بحرانی کیفیت پیدا کر دی ہے، دس لاکھ لوگ ماربل انڈسٹری سے وابستہ ہیں ، سب کے سب ہڑتال اور احتجاج پر ہیں، صنعتی شعبہ اور زیادہ خراب ہو گیا ہے، چھوٹی صنعتیں تباہ ہو گئی ہیں، عدالت کافیصلہ ہے کہ خیبرپختونخوا سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ نہیں لیا جا سکتا جبکہ وزارت توانائی حکام نے کمیٹی کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجوہات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے پاس جنریشن کی انسٹالڈ استعداد 38320میگا واٹ ہے کچھ پلانٹس نئے ہیں کچھ پرانے ہیں، وقت کے ساتھ ان کی جنریشن کی صلاحیت کم ہوتی ہے، پانچ ہزار 800میگا واٹ بجلی فیول نہ ہونے کی وجہ سے میسر نہیں ہے، 63میگا واٹ شیڈول آﺅٹیج کی وجہ سے ہمیں میسر نہیں ہیں، فورسڈ آﺅٹیج کی وجہ سے 2100میگا واٹ میسر نہیں ،سسٹم کنجیشن کی وجہ سے نو سو میگا واٹ میسر نہیں،کسی وقت پانی کا بہاﺅ نہیں ہوتاکسی وقت ہوا نہیں چل رہی ہوتی اور کسی وقت سولر انرجی میسر نہیں ہوتی 8ہزار 650میگاواٹ ان وجوہات کی وجہ سے آج کل ہمیں میسر نہیں ہیں، آج کل اوسطا بجلی کی ڈیمانڈ 18000میگا واٹ پر چل رہی ہے جبکہ اوسطا سپلائی ساڑھے17ہزار میگا واٹ ہے، اس سال صرف اپریل کے مہینے میں 38فیصد ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا ہے۔


