لاہور، لاپتہ بیبرگ بلوچ کی عدم بازیابی کیخلاف طلبہ کا احتجاج، پولیس کا تشدد اور لاٹھی چارج
لاہور (انتخاب نیوز) سی ٹی ڈی پنجاب کے ترجمان کے مطابق ان کے ادارے نے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان کے ترجمان کے مطابق ‘بیبگر کو چھٹیاں ہوئی تھیں اور ان کا ارادہ تھا کہ وہ اپنے کزن کے ساتھ مل کر عید کی چھٹیاں منانے کے لیے واپس اپنے گھر (آبائی علاقے) جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بیبگر کا تعلق بلوچستان کے علاقے تربت سے ہے۔ بلوچ سٹوڈنٹس کونسل کے ترجمان کے مطابق صبح ساڑے سات بجے کے قریب سادہ لباس میں ملبوس چند افراد ان کے ہاسٹل آئے اور بغیر کسی قسم کے وارنٹ کے بیبگر کو اٹھا کر لے گئے۔ ترجمان کے مطابق بیبگر نے ان سے پوچھا کہ وہ انھیں کیوں لے جا رہے ہیں؟ تو انھوں نے بتایا کہ ان سے تفتیش کرنا ہے۔؟ بیبگر امداد نے ان سے کہا کہ ان کا فون بھی ان کے پاس ہے اور لیپ ٹاپ وغیرہ بھی، جو تفتیش کرنی ہے وہ وہیں پر ان سے کی جا سکتی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد بیبگر کا فون اور لیپ ٹاپ بھی لے لیا گیا اور سادہ لباس میں ملبوس افراد انھیں اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی کی سیکیورٹی ٹیم کے انچارج بھی سادہ لباس میں ملبوس افراد کے ہمراہ تھے۔ ادھر پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان خرم شہزاد کے مطابق یہ شخص منگل کی رات کو ہاسٹل پہنچا تھا جہاں اس کا رشتہ دار رہتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاسٹل کے قواعد کے مطابق وہاں رہنے والے تین دن کے لیے کسی مہمان کو ساتھ رکھنا چاہیں تو رکھ سکتے تھے جس کے لیے انہیں فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔



