سندھ اور جنوبی پنجاب میں پانی کی قلت تشویشناک ہے، شیر رحمن

اسلام آباد (انتخاب نیوز) وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے سندھ میں پانی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 1991 کے ایکارڈ کے مطابق صوبوں کو پانی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ میں پانی کی 60 فیصد کمی انتہائی خطرناک ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ کے بیراجوں اور نہروں میں پانی کی 52 سے 62 فیصد کمی کی وجہ سے آبادی، زراعت اور مویشیوں کو شدید نقصان کا سامنا ہے انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ میں پانی کی قلت کی وجہ سے سندھ کے کئی شہروں کو پانی نہیں مل رہا ہے اس وقت کوٹری ڈاﺅن اسٹریم 15 ہزار کیوسک پانی ہونا چاہئے تھا لیکن 2 ہزار کیوسک سے بھی کم چھوڑا جا رہا ہے، شیری رحمان  نے کہا کہ پانی کی اس شدید قلت کی وجہ سے سندھ میں کپاس، چاول اور دیگر فصلیں تباہ ہو رہی ہیں انہوں نے کہا کہ ہیٹ ویو اور شدید گرمی کی اس موسم میں سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں پانی کی قلت تشویشناک ہے، انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مطابق 2025 تک پاکستان خشک سالی کا شکار ہو جائے گا، انہوں نے کہا کہ پانی کی 1991 کے پانی معاہدے کے مطابق منصفانہ تقسیم ضروری ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں واٹر کنزرویشن اور صوبوں کے بیچ منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں