پی ایس ڈی پی کا حجم 800ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز،بلوچستان ترقیاتی بجٹ کا محور ہوگا، احسن اقبال

اسلام آباد:وفاقی وزیر منصو بہ بندی، ترقی و خصوصی اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ نئے مالی سال کیلئے سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی)کا حجم 800 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، 100 ارب روپے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت خرچ ہوں گے، پی ایس ڈی پی کے بجٹ کو دانشمندانہ اور ملکی مفاد میں ترتیب دیا گیا ہے، جاری منصوبوں کی تکمیل پر ہماری زیادہ توجہ ہے، بلوچستان ہمارے ترقیاتی بجٹ کا اہم ہدف ہے، بلوچستان کو دیگر صوبوں کے مقابلہ میں زیادہ ترقیاتی فنڈز دیئے جا رہے ہیں تاکہ وہاں پر جاری منصوبوں کو مکمل کیا جا سکے اور نئے منصوبے بھی شروع ہوں۔ ہفتہ کو پلان کوآرڈینیشن کمیٹی سالانہ کے اجلاس کے بعد سیکرٹری منصوبہ بندی سید ظفر علی شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اجلاس میں بجٹ کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے متعلق سفارشات کو نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں پیش کرنے کیلئے مختلف وزارتوں، ڈویژنوں اور صوبوں کی سفارشات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا اور ان سے حاصل کردہ فیڈ بیک کے مطابق سفارشات کو حتمی شکل دیدی گئی جسے 8 جون کو نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس سال پی ایس ڈی پی کا حجم 800 ارب روپے ہو گا جس میں سے 100 ارب روپے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت خرچ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال کیلئے پی ایس ڈی پی کی تشکیل و ترتیب خطرناک اور جان جوکھوں والا کام تھا کیونکہ گذشتہ 74 سالوں میں پہلی بار مالی سال کی چوتھی سہ ماہی میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے کوئی قسط ریلیز نہیں ہوئی۔ احسن اقبال نے کہا کہ نئے مالی سال کیلئے وزارت خزانہ نے پی ایس ڈی پی کیلئے 700 ارب روپے کے فنڈز مختص کرنے کی نشاندہی کی، 2018 میں جب ہم حکومت چھوڑ رہے تھے تو اس وقت ہمارا ترقیاتی بجٹ تقریبا ایک ہزار ارب روپے تھا، چار برسوں میں اس بجٹ کو 2 ہزار ارب روپے تک بڑھنا چاہئے تھا لیکن گذشتہ سال اس کا حجم کم ہو کر 500 ارب روپے ہو گیا جو 2018 کے مقابلہ میں 50 فیصد کم ہے، عوام کی ترقیاتی ضروریات میں اضافہ ہوا لیکن بدقسمتی سے بجٹ کم ہوا، یہ ایک چیلنج اور المیہ ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ مشکلات کے باوجود ہم نے کوشش کی ہے کہ پی ایس ڈی پی کے بجٹ کو دانشمندانہ اور ملکی مفاد میں ترتیب دیا جائے، جاری منصوبوں کی تکمیل پر ہماری زیادہ توجہ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چار برسوں میں پی ایس ڈی پی میں 44 فیصد کے قریب صوبائی نوعیت کے منصوبوں کو شامل کیا گیا، جن منصوبوں میں وفاق کو شامل ہونا چاہئے تھا وہاں پر صوبائی منصوبے شامل کئے گئے جس سے وفاقی وزارتوں جیسے مواصلات اور پورٹ اینڈ شپنگ کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ وفاقی وزیر نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گوادر میں چار سال کیلئے گریجنگ کیلئے پیسے درکار تھے کیونکہ گوادر کی بندرگاہ پر 11 فٹ کی سیلٹنگ ہوئی ہے لیکن اس کیلئے کوئی فنڈز مختص نہیں کئے گئے، گوادر میں عوام کو پانی اور بجلی کے مسائل کو حل کرنے کیلئے فنڈز دستیاب نہیں تھے، اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ 45 فیصد بجٹ کو سیاسی بنیادوں پر گلیوں کی تعمیر پر خرچ کیا گیا، ہماری کوشش ہے کہ اس کو جلد از جلد کم کیا جائے۔ وفاقی وزیر نے پی ایس ڈی پی کے حوالہ سے حکومتی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کی روشنی میں ترقی کی بنیادی ضرورتوں جیسے پانی کے وسائل کو ترقی دینا ہماری پہلی ترجیح ہے، دیامیر بھاشا ڈیم کی اراضی کی خریداری کیلئے ہماری حکومت نے 120 ارب روپے سے زیادہ خرچ کئے تھے، ہم اس منصوبہ کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر آبی وسائل کی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے فنڈز مختص کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں