منظور بلوچ نے بلوچستان میں آباد اقوام کومشکلات سے نکالنے میں اہم کردارادا کیا، بی این پی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیراہتمام پارٹی کے سابق مرکزی لیبر سیکرٹری و بی ایس او کے سابق چیئرمین منظور بلوچ کی دوسری برسی کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا گیا جس سے پارٹی کے مرکزی قائم مقام صدر ملک عبدالولی کاکڑ، مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ بلوچ، مرکزی وومن سیکرٹری رکن صوبائی اسمبلی شکیلہ نوید دہوار،مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری رکن صوبائی اسمبلی احمد نواز بلوچ،بی ایس ا و کے چیئرمین جہانگیر منظور بلوچ،مرکزی کمیٹی کے ممبر میر غلام نبی مری،بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات بالاچ قادراوردیگر نے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین منظور بلوچ کوانکی دوسری برسی پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ منظور بلوچ کی جدوجہد اورسیاسی نظریہ کسی محدود طبقے کے لئے نہیں تھا بلکہ تمام مظلوم اقوام سمیت بلوچستان میں آباد تمام اقوام کیلئے تھی انکی جدوجہد کا مرکز بلوچستان میں آباد تمام اقوام سے تعلق رکھنے والے تھے انہوں نے تمام ترمشکلات کے باوجودمراعات کو ٹھکراکر ہمیشہ نظریاتی جدوجہد کی آج انکی کمی نہ صرف انکے خاندان بلکہ بلوچ قوم محسوس کرتی ہے اورانکا بچھڑ جانا پوری بلوچ قومی تحریک کیلئے ایک بڑا نقصان ہے انہوں نے پوری زندگی ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظریاتی،فکری،سیاسی جمہوری جدوجہداور مستقل مزاجی سے بلوچ قوم سمیت بلوچستان میں آباد اقوام کومشکلات سے نکالنے کیلئے اپنا کردارادا کیا انکی کمی نہ صرف تادیر یاد رہے گی بلکہ انکے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا مشکل سے پر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ شہید منظور بلوچ پوری زندگی کبھی مایوس کا شکار نہیں ہوئے بلکہ ہرمشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔مقررین نے کہا کہ چیئرمین منظور بلوچ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ بی این پی نے ہمیشہ بلوچستان کے ساحل و وسائل پر یہاں کے عوام کے اختیار کیلئے جدوجہد کی پارٹی کا ہمیشہ موقف واضح صوبے کی پسماندگی کا خاتمہ،عوام کی ترقی و خوشحالی پر مبنی رہا ہے ملک میں چاہے مارشل لاء یا جمہوری دور ہو ہمارے عوام نے ہمیشہ مشکلات کا سامنا کیا اور پارٹی نے ہمیشہ مشکل وقت میں عوام کا ساتھ دیا۔انہوں نے کہا کہ پارٹی سابق وفاقی حکومت کی اتحادی تھی پی ڈی ایم کا حصہ ہونے کے باعث موجودہ حکومت میں شامل ہوئے ہیں یہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے درمیان طے ہوا تھا کہ حکومت بننے کی صورت میں پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں حکومت کا حصہ ہونگی جس کے تحت ہماری جماعت حکومت کا حصہ بنی ہے لیکن ہم نے نہ تو کبھی اپنے نظریے اور فکر پر کوئی سمجھوتہ کیا ہے اور نہ کبھی کریں گے سابق دور حکومت میں بھی ہر فورم پر بلوچستان کی بات کی اور پارٹی کے چھ نکات رکھے موجودہ حکومت میں بھی چھ نکات پر بات کررہے ہیں اور ہر فورم پر بلوچستان اور بلوستان کے عوام کی بات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرداراختر مینگل اور بی این پی کی کوششوں سے کچھ لاپتہ افراد بازیاب ہورہے ہیں ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اسے گرفتار کرکے عدالتوں میں پیش کیاجائے اگر کسی پر جرم ثابت ہوا تو اسکے لئے کوئی بات نہیں کریں گے مگر بے گناہ لوگوں کے لاپتہ ہونے پر ضرور آوازبلند کریں گے الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بی این پی کا راستہ روکنے کی کوشش کی جارہی ہے کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات ہونے جارہے ہیں لیکن اسکے ساتھ قومی اور صوبائی اسمبلی کی جس طرح حلقہ بندیاں کی گئی ہیں وہ درست نہیں انتخابی فہرستوں میں ناموں کا اندراج بھی غلط ہے اس تمام صورتحا ل کے خلاف 15جون کو الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے احتجاج کریں گے۔


