زمینداروں کو کھاد کے حصول اور ترسیل میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں، میر کبیر
کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر میر کبیر احمد محمدشہی نے کہا ہے کہ صوبے کے زمینداروں کو کھاد کے حصول اور ترسیل میں درپیش مشکلات اور رکاوٹوں کو فوری دور کیا جائے۔ زمیندار اپنی فصلوں تک کھاد کی چند بوریاں لے جانے کے لیے بھی شاہراہوں پر قائم سیکورٹی چیک پوسٹوں پر روزانہ کی بنیاد پر ذلت و خواری کا سامنا کرتے ہیں۔ زمینداروں کے لیے چند بوری کھاد لے جانے والی مسافر گاڈیوں اور نجی سواریوں کو خواتین اور بچوں سمیت کئی گھنٹوں تک چیک پوسٹوں پر بے یار و مدگار کھڑا رکھا جاتا ہے ہے جس کے باعث کوئی سواری زمینداروں کو کھاد پہنچانے کے لیے تیار نہیں جبکہ دوسری جانب اسمگلنگ میں ملوث گروہ ٹرکوں میں سینکڑوں بوریاں لوڈ کرکے رشوت دے کر مذکورہ پوسٹوں سے باآسانی گزر جاتے ہیں۔ یہ تمام تر ظلم و زیادتی عوام اور زمینداروں کی آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے جس سے ان میں شدید غصہ اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ بلوچستان کی آبادی کی اکثریت کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے۔ حکومتی سطح پر موثر منصوبہ بندی اور سہولت کاری نہ ہونے کے باعث زمیندار پہلے ہی بہت زیادہ مشکلات کا شکار ہیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پانی کی کمی کا سامنا کرنے کے بعد بھی سال بھر کی محنت کے باوجود انہیں پیداوار کا مناسب نرخ بھی نہیں مل پاتا مگر اب تو بویائی کے دوران ہی کھاد سے محروم کرکے انہیں مزید مشکلات میں دھکیلا جا رہا ہے۔ زمینداروں کو نہ تو ان کے علاقوں میں یوریا اور دیگر کھادیں میسر ہیں اور نہ ہی انکو کوئی سبسڈی مل رہی ہے جبکہ اسمگلنگ کے تدارک کے نام پر جو نمائشی اقدامات کیے جا رہے ہیں انکا رخ بھی زمینداروں اور عام عوام کی طرف موڑ کر انکو مزید تنگ کیا جارہا ہے۔ عوام اندھے اور بہرے نہیں بلکہ تمام حقائق سے باخبر کہ کس طرح اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کی سہولت کاری ہورہی ہے اور زمینداروں کو چیک پوسٹوں پر تنگ کیا جارہا ہے تاکہ وہ اپنے حقوق سے دستبردار ہوجائیں۔ اس سے پہلے کے زمینداروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو اور وہ شدید احتجاج پر مجبور ہوں حکومت فوری طور پر زمینداروں کو کھاد کے حصول اور ترسیل میں حائل رکاوٹیں دور کرے اور زمینداروں کو کھاد پہنچانے والی گاڈیوں کو سیکورٹی چیک پوسٹوں پر تنگ کرنے کا سلسلہ روکا جائے۔


