قبائلی معاشرے میں خواتین کا گھروں سے نکل کر ہنر سیکھنا خوش آئند ہے، فرانسیسی قونصل جنرل
کوئٹہ (انتخاب نیوز) فرانس کے قونصل جنرل کرسچن ٹیسٹوٹ نے کہا ہے کہ خواتین ملکی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد پر ہوتا ہے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں مرد اور خواتین دونوں احسن طریقے سے اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ یہ باتیں انہوں نے گزشتہ روز ویمن ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر سمنگلی روڈ کوئٹہ کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہیں اس موقع پر سیکرٹری محنت و افرادی قوت طارق قمر بلوچ، ڈائریکٹر افرادی قوت تربیت عبدالغفور مری، چیف ایگزیکٹو آفیسر بلوچستان انویسٹمنٹ بورڈ سعید احمد سرپرہ، سابق سینیٹر نوابزادہ سیف اللہ مگسی، پرنسپل ٹی ٹی سی کوئٹہ شعیب انور شیرازی، پرنسپل ڈبلیو ٹی سی سی شبنم ناز اور دیگر بھی موجود تھے۔ فرانسیسی قونصل جنرل کرسچن ٹیسٹوٹ نے مزید کہا کہ پاکستان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد مردوں کی مدد کر کے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گھر چلانے کے فرائض بھی انجام دیتی ہیں۔ ترقی کے حوالے سے کسی بھی منطقی معیار کے مطابق، خواتین کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا مردوں کا ہے۔ خواتین کو بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کی ضرورت ہے ان کا کہنا تھا کہ قبائلی معاشرے میں خواتین کا گھروں سے نکل کر ہنر سیکھنا خوش آئند ہے کیونکہ ہنر مند افراد کسی بھی ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ افراد اپنے فن اور صلاحیتوں سے اپنی قوم کو ترقی کے منازل کی جانب گامزن کرتے ہیں۔ کرسچن ٹیسٹوٹ نے کہا کہ بلا شبہ بیروزگاری عالمی سطح کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ نوجوان جن میں ذہانت، قوت اور صلاحیتیں موجود ہیں مگر وہ نوکری اور روزگار سے محروم ہیں۔ بلاشبہ تعلیم انسان کو شعور اور معاشرتی آداب سکھا کر معاشرے میں رہنے کے قابل بناتی ہے، جسے حاصل کرنے سے انسان ایک قابل قدر شہری بن جاتا ہے جبکہ فنی تربیت انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے اسے باعزت روزگار کمانے کے قابل بناتی ہیں تاکہ وہ معاشی طور پر خوشحال زندگی بسر کرسکے۔ فنی تعلیم یافتہ ہنرمند ایک تو کبھی بے روزگار نہیں رہ سکتا اور دوسرا یہ کہ ہنر مندی کی تعلیم سفارت کاری کی دنیا میں ہم آہنگی کی فضا قائم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انسان کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر بھی آنا چاہئے تاکہ کسی بھی مشکل وقت میں وہ رزق کما سکے۔ موجودہ دور ٹیکنالوجی کا دور ہے اس دور کی سب سے بڑی ضرورت فنی مہارت اور صنعتی پیشہ ورانہ تعلیم ہے۔ ہروہ ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے جس نے فنی مہارت حاصل کی ہے۔


