چینی آئی پی پیز پاکستان سے زائد ادائیگیاں وصول کررہے ہیں، آئی ایم ایف
اسلام آباد (انتخاب نیوز) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کی نمائندہ ایستھر پیریز روئیز نے واضح کیا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان سے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت کیے گئے توانائی کے معاہدوں پر دوبارہ بات چیت کرنے کے لیے نہیں کہا۔ ایستھر پیریز روئیز کی جانب سے یہ وضاحت ان کے ایک بیان میں دی گئی ہے جس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ردعمل کس بات کے جواب میں تھا۔ گزشتہ ہفتے شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ چینی پاور پلانٹس کو تقریباً 300 ارب روپے کی ادائیگیوں سے قبل سی پیک کے تحت کیے گئے توانائی کے معاہدوں پر دوبارہ بات چیت کرے۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ آئی ایم ایف نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ سی پیک پاور پلانٹس کے لیے 1994ءاور 2002ءکی پاور پالیسیوں کے تحت قائم کیے گئے پاور پلانٹس کے مساوی حکمت عملی اپنائے۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا گیا تھا کہ آئی ایم ایف کو شبہ ہے کہ چینی آئی پی پیز (انڈیپینڈنٹ پاور پلانٹس) پاکستان سے زیادہ ادائیگی وصول کر رہے ہیں اور ان معاہدوں کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ مزید برآں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت خزانہ کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ آئی ایم ایف نے معاہدوں پر دوبارہ بات چیت کیے بغیر فروری میں چینی آئی پی پیز کو 50 ارب روپے دینے پر بھی اعتراض کیا۔ رپورٹ میں ایستھر پیریز روئیز کا تبصرہ بھی شامل تھا جس میں کہا گیا کہ ایستھر پیریز روئیز نے محدود مالی دائرہ کار کے سبب پاور سیکٹر کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مساوی سلوک کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ رپورٹ میں آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان سے سی پیک کے توانائی معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کرنے کے بارے میں ایستھر پیریز روئیز کی جانب سے فوری طور پر کوئی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی تھی، تاہم انہوں نے گزشتہ روز جاری کردہ اپنے بیان میں اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے واضح طور پر غلط قرار دیا۔


