کوہلو میں پرائس کنٹرول کمیٹی منظر سے غائب،مہنگائی کا جن بے قابو
کوہلو (انتخاب نیوز) بلوچستان کے ضلع کوہلو میں مہنگائی کا جن بے قابو ہے جس کی وجہ سے اشیاء خوردنی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے دیہاڑی دار طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ گیا۔ کوہلو میں مہنگائی نے ہر طبقے کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جس سے لوگ ذہنی اذیت میں مبتلا ہو کر رہ گئے ہیں، ضلع میں پرائس کنٹرول کمیٹی صرف اجلاسوں اور زبانی دعوؤں تک محدود ہوکر رہ گئی۔ پھل،سبزی،دالیں،آٹا،گھی،چاول،چینی،گوشت سمیت دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں ہر آئے روز اضافے سے عوام خود ساختہ مہنگائی سے عاجز آگئے جبکہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کے گھروں میں فاقو ں کی نوبت آگئی ہے کوہلو کے شہریوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ضلع میں یوں تو ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹی ہر دو ماہ بعد دورہ کرکے گرانفروشی کو کنٹرول کرنے کے دعوے کرتی نظر آتی ہے مگراس کے بعد پرائس کنٹرول کمیٹی سرے سے غائب ہوجاتی ہے سبزی و گوشت ڈیلرز مافیہ اور دوکانداروں کی تیز تلوار عوام کی گردن پر ہے اب لوگوں کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بن گیا ہے۔ شہریوں نے مزید بتایا کہ ڈیرہ غازی خان اور سبی کی منڈیوں میں قیمتیں کافی کم ہیں مگر یہاں ڈیلرز اپنی من مانی سے دوکانداروں کو چیزیں تین گنا اضافی قیمتوں پر فروخت کرکے خود ساختہ مہنگائی کرتے ہیں۔ جس سے دوکاندار مال تین گنا قیمتوں پر فروخت کرنے اور عوام لینے پر مجبور ہوتے ہیں گزشتہ اجلاس میں گوشت کی قیمت 480روپے مقرر کی گئی تھی مگر کئی ہفتوں سے ضلع بھر میں مرغی کا گوشت سمیت دیگر آئمز من پسند قیمتوں پر فروخت کی جارہی ہیں۔ ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹی کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ضلعی میں سرکاری نرخ نامہ جاری کرنے کے بعد عملدرآمد کرنا بھی پرائس کنٹرول کمیٹی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ کوہلوکے عوامی حلقوں نے کمشنر سبی ڈویژن،ڈپٹی کمشنر کوہلو قربان علی مگسی اور اسسٹنٹ کمشنر کوہلو عبدالستار مینگل سے مطالبہ کیاہے کہ ضلع میں ناصرف خودساختہ مہنگائی کرنے والے دوکانداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے بلکہ ضلع میں سبزی و گوشت فراہم کرنے والے ڈیلروں کو بھی سخت اور واضع ہدایت دی جائیں کہ وہ اشیاء خوردنی ڈیرہ غازی خان اور سبی کے مارکیٹوں کے مطابق فراہم کریں ڈیلروں کی جانب سے دوکانداروں کو تین گنا قیمتوں پر سبزی و گوشت فراہم کرنے کا سلسلہ بند کرنے کیلئے سخت اقدمات اٹھانے ہوں گے تاکہ خود ساختہ مہنگائی کم ہونے سے غریب لوگ سکھ کا سانس لے سکیں۔


