سرجیکل قینچیوں کی عدم فراہمی پر بلوچستان بھر میں وٹامن اے کی مہم ملتوی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) جرمن نشریاتی ادارہ ڈی ڈبلیو کی خبر کے مطابق کورونا وبا کے بعد پاکستان میں تیزی سے سامنے آتے پولیو کیسز کے بعد حکومت نے اپنی انسداد پولیو مہم تیز کر دی ہے اور 2022ءکے پہلے پانچ ماہ میں دو مرتبہ ملک گیر پولیو مہمات کا انعقاد کیا گیا۔ ہر برس پولیو ویکسین کے قطروں کے ساتھ چھ ماہ سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کو وٹامن اے کی خوراک بھی دی جاتی ہے، جو ان کی بینائی کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ بلوچستان کے علاقے جعفر آباد سے تعلق رکھنے والے صحافی اور پولیو ورکر ببرک کارمل جمالی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ 23 مئی کو ملک کے دیگر علاقوں کی طرح بلوچستان میں بھی پولیو ویکسینیشن مہم معمول کے مطابق شروع ہوئی تھی۔ پولیو قطروں کے ساتھ وٹامن اے کی خوراک جو کیپسول کی صورت میں ہوتی ہے، مختلف ڈسٹرکٹ کے دفاتر سے یونین کونسل تک پہنچ گئی تھی۔ بعد ازاں فیلڈ ورکرز کو ہدایت کی گئی کہ چونکہ کیپسول کاٹنے کے لیے سرجیکل قینچیاں انہیں فراہم نہیں کی گئیں اس لیے وٹامن اے کیپسول بچوں کو نہیں دیے جائیں۔ لہذا بلوچستان بھر میں ٹیمیں بچوں کو صرف پولیو کے قطرے پلا کر لوٹ گئیں۔ ببرک جمالی گزشتہ سولہ سال سے بلوچستان میں پو لیو ورکر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے ڈوئچے ویلے کے استفسار پر بتایا کہ بلوچستان میں وٹامن اے کیپسول کو کاٹنے کے لیے سادہ قینچیاں ہی استعمال ہوتی رہی ہیں، جو ورکرز کو ہر دفعہ حکومت فراہم کرتی ہے، ”مگر یہ بازار سے با آسانی دستیاب ہیں۔ لہذا جب ورکرز کو ہدایت کی گئی کہ وٹامن اے خوراک اس بار بچوں کو نہیں دی جائی گے تو ہمیں کافی تشویش ہوئی۔


