بلوچستان کے سرکاری ملازمین نے صوبائی حکومت کا پیش کردہ بجٹ مسترد کردیا
کوئٹہ (انتخاب نیوز) کوئٹہ سمیت اندرون صوبہ محکمہ مواصلات و تعمیرات،بی اینڈ آر ایریگیشن، ایگریکلچرل انجینئرنگ زراعت پی ایچ ای، بی ڈی اے کیو ڈی اے محکمہ واسا کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن سمیت دیگر اضلاع کے میونسپل اداروں کے ملازمین و درجہ چہارم مزدوروں اور انکی تنظیموں کے یونین عہدیداروں اور بلوچستان لیبر فیڈریشن میں شامل تنظیموں نے بلوچستان حکومت کا مالی سال برائے 2022 تا 2023 کا بجٹ مسترد کردیا ہے، مہنگائی میں دو سو فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ تنخواہوں میں صرف پندرہ فیصد اضافہ اس کمر توڑ مہنگائی میں اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ اس وقت ملک و قوم شدید قسم کے بحرانوں کا شکار ہیں۔ کرپشن اور لوٹ مارتمام جماعتوں کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔ستر سال سے قوم کی خواہشات کا مذاق اڑایاجارہا ہے۔ قوم نے جس پر بھی اعتماد کا اظہار کیا اسی نے دھوکہ دیا ہے۔حکمرانوں پٹرولیم مصنوعات،اشیاخورونوش کی قیمتوں میں فوری کمی کرکے عوام کو ریلیف دیں اور موجودہ قابل مہنگائی سے عوام کو نجات دلائیں ان خیالات کا اظہار بلوچستان لیبر فیڈریشن کے صدرخان زمان چیئر مین بشیر احمد سیکرٹری جنرل قاسم خان ڈپٹی سیکرٹری جنرل عبدالمعروف آزادحاجی عبدالعزیز شاہوانی محمد عمر جتک دین محمد محمد حسنی نورالدین بگٹی عابد بٹ عارف خان نچاری ملک وحید کاسی ظفر خان رند منظور احمد حبیب اللہ لانگو فضل محمد یوسفزئی میر زیب شاہوانی حاجی غلام دستگیر اور دیگر مزدور و ملازم رہنماں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت وفاق کی جانب سے اعلان کردہ ڈی آر اے الانس کے بقایات جات کی ادائیگی کے حوالے بلوچستان کے ملازمین و مزدوروں کی مقروض ہے اور اس حوالے سے بار بار بلوچستان کے ملازمین کو لالی پاپ دیا جارہا ہے تما صوبے ڈی آر اے رننگ بیسک پر منظور کرتے ہیں بلوچستان حکومت ہر بار اس سے راہ فرار اختیار کررہی ہے مزدور رہنماں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے مالی سال 2022-23کے بجٹ میں صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافہ 2017کی بنیادی تنخواہوں کے مطابق،پنشن میں 15فیصد اضافہ اور ایڈہاک الانسز وفاقی حکومت کے طرز پر ضم کیاجبکہ مزدوروں کی کم سے کم اجرت 25ہزار روپے مقرر کردی۔محکمہ صحت، پیرامیڈیکس اور ٹیکنیکل اسٹاف کاہیلتھ پروفیشنل الانس اور ہیلتھ رسک الانس میں 100فیصد اضافہ کیاجبکہ دوسری جانب ایسے سینکڑو ں ملازمین کیلئے کوئی پالیسی نہیں دی جو گزشتہ پچیس تا اٹھائیس سال سے ایک ہی گریڈ میں فرائض انجام دے رہے ہیں ایسے ہنر مند ٹیکنیکل ملازمین کیلئے ترقی کے دروازے گزشتہ تیس سال سے بند ہیں یہ بلوچستان کاحالیہ بجٹ کسی تعریف کا لائق نہیں، صرف الفاظ کا ہیر پھیر ہے، اب کو پورا سال تنخواہوں پنشن اور مراعات کیلئے احتجاج کرنا پڑتا ہے کوئی پرسان حل نہیں غیر ضروری اخراجات کا یہ عالم ہے کہ بلوچستان کے کئی اداروں کے مزدور اور ملازمین دو دو ماہ کی تنخواہوں پنشن اور کئی ماہ قبل ریٹائرڈ ہونیوالے ملازمین اپنی گریجویٹی کیلئے ترس گئے ہیں جبکہ کوئٹہ شہر کے اہم ادارے واسا کے ملازمین کوروان ماہ کی 22 تاریخ تک تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جا سکی ہے جس کی وجہ سے ملازمین سراپا احتجاج ہیں۔


