بلوچستان میں وفاق کی جانب سے کوئی میگا پروجیکٹ شروع نہیں کیا گیا، زمرک اچکزئی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) صوبائی وزیر خوراک انجینئرزمرک خان اچکزئی نے مالی سال 2022-23ء کے بجٹ پر اسمبلی میں عام بحث کا آغا ز کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ڈی پی بلوچستان میں سرمایہ کاری ہے تاکہ لوگوں کے مسائل میں کمی لائی جا سکے۔بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جس کی مردم شماری میں آبادی ایک کروڑ بیس لاکھ ہے ایسے میں محدود وسائل میں رہ کر بلوچستان حکومت صوبے کی منتشر آبادی کے مسائل سو فیصد حل نہیں کرسکتی جب تک وفاق کی طرف سے بلوچستان حکومت کو سپورٹ نہیں ملے گی ان مسائل میں کمی نہیں لائی جاسکتی انہوں نے کہاکہ کمیونیکیشن‘ بارڈر‘ فوڈ سیکورٹی پروگرام کا تعلق وفاق سے ہے ساحل و وسائل وفاق کے زیر اثر ہیں ایسے میں وفاقی بجٹ میں صوبے کیلئے 60ارب روپے رکھے گئے ہیں 60ارب روپے سے ایک پل بھی تعمیر نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہاکہ گوادر سی پیک کا محور ہے اگر وہاں ہسپتال یا شاہراہ تعمیر کی جا رہی ہے تو وفاق کا ہم پر احسان نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ صوبے میں وفاق کی جانب سے کوئی میگا پروجیکٹ شروع نہیں کیا گیا بلوچستان کے پی ایس ڈی پی سے منتشر آبادی کے مسائل میں کمی نہیں آئے گی انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے بجٹ کو متوازن رکھنے کی کوشش کی گئی ہے ہمیں چاہیے کہ ہم وفاق سے اپنے صوبے کے حقوق کیلئے جمہوری طریقے سے آواز اٹھائیں انہوں نے کہاکہ وفاق سے جو شیئرز مل رہے ہیں آیا اس سے صوبے کے مسائل میں کمی آسکتی ہے انہوں نے کہاکہ کوئٹہ شہر مسائل کی آماجگاہ بن گیا ہے تو اس شہر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے صوبے میں انڈسٹریل زونز قائم کئے جائیں جس سے بیروزگاری میں کسی حد تک کمی آئے گی انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں بلوچستان کے سیاسی اکابرین کے ناموں سے مختلف منصوبے پی ایس ڈی پی میں شامل کئے گئے ہیں جس پر میں بلوچستان حکومت کا مشکور ہوں بجٹ میں اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اپوزیشن اراکین بھی بجٹ سے خوش ہیں جو مثبت قدم ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ بجٹ میں نان ڈویلپمنٹ پر قابو پاکر ترقیاتی بجٹ میں اضافہ ہونا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں