جامعہ بلوچستان میں بائیو میٹرک حاضری اساتذہ کی تدریسی سرگرمیوں میں رکاوٹ کا باعث ہے، اکیڈمک اسٹاف
کوئٹہ (آئی این پی) جامعہ بلوچستان کی انتظامیہ کی جانب سے اساتذہ کے لیے روزانہ صبح و شام دو مرتبہ بائیو میٹرک حاضری لازمی قرار دینے کے فیصلے نے اساتذہ کرام میں گہری تشویش اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اس تناظر میں اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے کابینہ اراکین نے مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا، جہاں اساتذہ نے کھل کر اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا۔ اساتذہ کا م¶قف تھا کہ ان کی بنیادی ذمہ داری تدریس اور تحقیق ہے، اور انہیں اپنی توانائیاں کلاس روم میں موثر تدریس اور علمی سرگرمیوں پر مرکوز رکھنی چاہئیں۔ ان کے مطابق طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنا، تحقیق میں حصہ لینا اور دیگر پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی ہی دراصل ان کی حقیقی حاضری ہے، جس کا باقاعدہ ریکارڈ وہ متعلقہ چیئرمین اور ڈین کو فراہم کرتے ہیں۔ اسی دوران اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے اساتذہ سے واضح طور پر کہا کہ وہ بائیو میٹرک حاضری بالکل نہ لگائیں اور اس کی بجائے اپنی کلاسز کی حاضری کو یقینی بنائیں، نیز اس کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کر کے متعلقہ چیئرمین کے پاس جمع کروائیں۔ اساتذہ نے اس امر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ روزانہ دو مرتبہ بائیومیٹرک مشین پر حاضری دینا انکے پیشہ تدریس کے وقار اور عزت کے خلاف ہے۔ ان کے نزدیک یہ عمل معلم کے مقام اور اس کی عزت نفس کو مجروح کرتا ہے۔ اساتذہ نے یونیورسٹی انتظامیہ اور وائس چانسلر سے پرزور مطالبہ کیا کہ اس غیر مناسب اور غیر منطقی فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے، اور اساتذہ کو ان کی اصل ذمہ داریوں یعنی تدریس و تحقیق تک محدود رکھا جائے، تاکہ وہ اپنی پیشہ ورانہ خدمات کو بہتر اور م¶ثر انداز میں انجام دے سکیں۔


