سی ایس او اور ڈی جی ایڈمن جامعہ بلوچستان ادارے کو بدحالی کی طرف لے جا رہے ہیں، بی ایس او

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بی ایس او یو او بی یونٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ جامعہ بلوچستان بلوچستان کی مادر علمی ادارہ ہے۔ جامعہ بلوچستان دہائیوں سے بلوچستان بھر کو شعوری، سیاسی اور علمی کیڈرز فراہم کی جو بلوچستان کی ڈویلپمنٹ میں خدمات سر انجام کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جامعہ بلوچستان سامراجی قوتوں اور عناصر کی آنکھوں میں چبھتا ہے اور جس کیلئے جامعہ کے تعلیمی و شعوری سیاسی ماحول کو خراب کرنے کیلئے کرپشن بدعنوانی اور دیگر ہتھکنڈوں کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سازشی عناصر ہمیشہ کسی نہ کسی طریقے سے ماحول کو خراب کرنے کیلئے کسی سازش کے تحت کوئی مسئلہ پیدا کرکے مراعات حاصل کرتے ہیں جامعہ بلوچستان کے تمام اکیڈمک، طلباء و تعلیمی مسائل کے پیچھے انہی عناصر کا کافی ہاتھ ہوتا ہے جن میں جامعہ بلوچستان کے کرپٹ چیف سیکورٹی آفیسر شامل ہیں جو کہ جامعہ میں اپنا سیکورٹی ہونے کے باوجود پرائیویٹ سیکورٹی کے مد میں لاکھوں روپے ہڑپ رہا ہے اور واضح رہے کہ پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز کو تنخواہ کم دی جاتی ہے اور ریکارڈ میں زیادہ لکھ کر پیٹ پرستی کی مثال قائم کی جارہ ہے۔ جامعہ بلوچستان میں پیش آنے والا حالیہ مسئلے سمیت جامعہ بلوچستان کی پر امن طلباء تنظیموں اور برادر اقوام کو لڑانے کے سازش میں چیف سیکورٹی کا اہم کردار رہا ہے۔ حالیہ مسئلہ میں بننے والے کمیٹی کے جانب سے جامعہ بلوچستان کے دو طلباء کو ٹرمنیٹ تو کیا گیا مگر پر امن طلباء تنظیموں کو سازش کے تحت لڑانے میں کردار ادا کرنے والے چیف سیکورٹی افسر کیخلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لایا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ چیف سیکورٹی آفیسر نے پچھلے دنوں جامعہ بلوچستان کے پرامن احتجاج کے دوران قابل احترام اساتذہ پر لاٹھی چارج کی جس میں کئی اساتذہ کرام زخمی ہوئے۔ کرپٹ چیف سیکورٹی نے اپنے مفادات کے خاطر اساتذہ کو بھی نہیں بخشا۔ جس کے وجہ سے کاروائی کے نام پر چیف سیکورٹی کو برائے نام عہدے سے ہٹایا گیا مگر اسے تمام مراعات سے بھی نوازا جاتا تھا اس کے بعد کیا گیا اثر رسوخ رکھنے کی وجہ سے سی ایس او کو دوبارہ سے بحال کیا گیا اور بحالی کے فوراً بعد طلباء تنظیموں کی جانب سے پمفلٹ لگا یا گیا تھا جس میں نشاندہی کی گئی کہ جامعہ بلوچستان میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آنے والا ہے اور بالکل عین مطابق چند دنوں بعد ایسا ہوا۔ جامعہ بلوچستان میں نا خوشگوار واقعہ پیش آیا جس میں سازش کے تحت بی ایس او اور پشتون ایس ایف کے ممبران کے درمیان تصادم پیدا کیا گیا۔ تصادم کے دوران چیف سیکورٹی آفیسر موقع پر موجود ہو کر اس تصادم کو ہوا دینے کی بھرپور کوشش کرتے رہے اور یہاں تک کے تصادم میں اسلحہ تک فراہم کیا گیا مگر دونوں طلباء تنظیموں کے قیادت نے خوش اسلوبی و بالغ النظری سے اس مسئلہ کو ختم کرکے سازش کو ناکام بنایا۔ تصادم اور جامعہ بلوچستان کے بدتر حالات سے بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں۔ تصادم کے دوران اسلحہ کا استعمال، سرکلرز پر پمفلٹ کرنے والے کیمرے کی آنکھ سے اوجھل ہونا مخصوص افراد کو آلہ کار بنا کر بلوچ پشتون تضاد پیدا کرنے سمیت کرپشن بدعنوانی میں ملوث ہونے کے باوجود چیف سیکورٹی آفیسر کیخلاف کارروائی نہ ہونا سوالیہ نشان ہے۔ جامعہ بلوچستان انتظامیہ چیف سیکورٹی آفیسر کی پشت پناہی بند کرکے ادارے میں تعلیمی ماحول بلوچ پشتون اتحاد اور کرپشن کے روک تھام کے لیے چیف سیکورٹی کو عہدے سے برطرف کرکے شفاف تحقیقات کرائے بصورت دیگر بی ایس او ایسے عناصر کے خلاف سخت لائحہ عمل طے کرکے ادارے کو بچانے کیلئے کسی طرح کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں