طلباء یونین پرپابندی آمریت کے دور کی عکاسی ہے‘اے این پی
کوئٹہ : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہاہے کہ طلبا یونین پر پابندی امریتی دورکی عکاسی کرتی ہے اور یہ امر باعث تشویش ہے کہ مستقبل کے معماروں کو سیاست سے لاتعلق اورانہیں A-Politicalizationکی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ ان خیالات کااظہارعوامی نیشنل پارٹی کے رہنماادیب لیکوال دانشورڈاکٹر خادم حسین نے بیوٹمزیونیورسٹی کوئٹہ میں پشتون سٹوڈنٹس فیڈریبش کے زیراہتمام طلبا یونینز کے عنوان سے منعقدہ سٹڈی سرکل کے شرکا سے خطاب کے دوران کیااس موقع پرعوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکااورسنٹرل کمیٹی رکن جاویدکاکڑپشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدرطاہرشاہ کاکڑ،مرکزی جنرل سیکرٹری مزمل خان کاکڑ،مرکزی نائب صدورابدال خان کاسی، شاہد کاکڑ،مرکزی سوشل میڈیاسیکرٹری حسن کاکڑ،بیوٹمزسیکرٹری عمران خان اوردیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔ سٹڈی سرکل میں بیوٹمز اور بلوچستان یونیورسٹی کے طلبہ نے کثیر تعدادمیں شرکت کی۔جس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خادم حسین نے طلبہ یونین کے آئینی، عدالتی، تعلیمی اور سماجی پہلوں پر سیر حاصل گفتگو کی انہوں نے کہا کہ طلبہ کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے، طلبہ میں انتظامی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے، مکالمے کا ماحول بنانے، ثقافتی سرگرمیوں کو پروموٹ کرنے، معاشرے کو سیاسی و سماجی قیادت دینے میں طلبہ یونینز کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اسلئے طلبہ یونینز پر پابندی فوری طور پر ختم ہونی چاہئیسٹڈی سرکل کے آخر میں خادم حسین نے طلبہ کے سوالات کے جوبات دئیے علاہ ازیں ڈاکٹر خادم حسین مابت کاکا طاہر شاہ کاکڑ مزمل خان کاکڑ جاوید کاکڑاوردیگر نے بیوٹمزمیں کوئٹہ لٹریری فیسٹیول کے مختلف سٹالوں کامعائنہ کیااور طلبا کی جانب سے کی گئی ان کاوشوں کوسراہابعد ازاں پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن بیوٹمز کی جانب سے عوامی نیشنل پارٹی اور پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنماں کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا۔


