مکران یونیورسٹی پنجگور میں کرپٹ وائس چانسلر کی تقرری قبول نہیں، بی ایس او

پنجگور (انتخاب نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ نوتعمیر مکران یونیورسٹی پنجگور میں سفارشی بنیادوں پر ایک کرپٹ شخص کے بطور وائس چانسلر تقرری تعلیمی ادارے کو ابتری کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے جس کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نئے وائس چانسلر مکران یونیورسٹی پنجگور جامعہ بلوچستان جنسی اسکینڈل کے مین کرداروں میں شامل ہیں جبکہ موصوف نے بطور کنٹرولر امتحانات کرپشن کی داستان رقم کی۔ بطور کنٹرولر موصوف نے جامعہ بلوچستان میں جعلی ڈگریوں کا کاروبار شروع کرکے غیرقانونی طور پر لوگوں کو ڈگریاں جاری کی۔ موصوف کے خلاف بلوچستان کے تمام طلباء تنظیموں نے تین مہینوں تک ایک تحریک بھی چلائی۔ انہوں نے کہا ہے کہ بطور وائس چانسلر لورالائی یونیورسٹی موصوف کا انتظامیہ کردار بھی تسلی بخش نہیں ہے جس کا واضح ثبوت 2021ء میں گورنر بلوچستان کا وہ نوٹیفکیشن ہے جس میں موصوف کو بطور وی سی خراب کارکردگی دکھانے پر برطرف کیا تھا۔ انتظامی طور پر نااہل اور کرپٹ شخص کو ایک بار پھر چور دروازے سے مکران یونیورسٹی پنجگور کا وی سی تعینات کیا گیا ہے۔ گورنر بلوچستان کی جانب سے تقرری کا نوٹفکیشن کینسل ہونے کے بعد بھی موصوف نے عدالت میں جاکر اسٹے آرڈر لی ہے۔ بی ایس او کے ترجمان نے کہا ہے کہ موجودہ وائس چانسلر کی تقرری کے خلاف تمام طلبہ کو خدشات ہیں جبکہ مکران یونیورسٹی کے طالبعلم گزشتہ تین دنوں سے جامعہ بند کرکے اسکے خلاف دھرنا دے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں کہا ہے کہ کسی بھی صورت میں اپنے تعلیمی اداروں کو کرپٹ مافیا کے ہاتھوں میں نہیں دینگے۔ اگر وائس چانسلر کی تقرری کو نہیں روکھا گیا تو جامعہ کے طلبہ کے ساتھ ملکر شدید احتجاج کرینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں