تربت،حق دو تحریک کے رہنماؤں کیخلاف ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا
تربت (نمائندہ انتخاب) حق دو تحریک کیچ کے رہنما، جماعت اسلامی کے رکن غلام اعظم دشتی اورشعیب حجام کے خلاف پولیس تھانہ تربت میں زبردستی دوکانیں بند کرانے،مارپیٹ اور لیویز تھانہ پر حملہ ودیگر الزامات کے تحت ایف آئی آر درج،مقدمہ میں 8 مختلف دفعات لگائی گئی ہیں،جبکہ حق دوتحریک کیچ کے ڈپٹی آرگنائزر یعقوب جوسکی، حاجی کریم زہری سمیت3افرادکے خلاف پہلے سے لیویز تھانہ تربت میں ایف آئی آر درج ہے، نائب تحصیلدارتربت شکیل احمدکی مدعیت میں پولیس تھانہ تربت میں حق دوتحریک کیچ کے رہنما غلام اعظم دشتی اور شعیب حجام کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیاہے، ایف آئی آرکامتن ذیل ہے، مورخہ30-6–2022کو کیساک چیک پوسٹ کے انچارج حمل نے تحریری مراسلہ دی ہے کہ کیساک چیک پوسٹ پر یعقوب جوسکی ولد رسول بخش۔ حاجی عبدالکریم زہری ولدمحمد حیات، جمیل احمد ولد زاروخان ودیگرنامعلوم ساتھیوں کے ساتھ لیویز چیک پوسٹ کے لیویز ملازمان پر حملہ آورہوکر ملازمان سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کرکے گالی گلوچ اورمارپیٹ کرتے ہوئے زبردستی M-8روڈ بندکردی جس کی تحریری مراسلہ پر مقدمہ برخلاف ملزمان بالا لیویز تھانہ تربت میں درج رجسٹر ہوا، مقدمہ کی اندراج کے بعد بذریعہ وائر سیٹ اطلاع ہوئی کہ غلام اعظم ولدملااحمد دشتی ساکن دشتی بازار،شعیب حجام نے دیگرنامعلوم ساتھیوں کے ساتھ مل کر تربت بازارکے دوکانداروں کو زبردستی دوکان بندکرنے کے ساتھ ساتھ دوکانداروں کے ساتھ ہنگامہ آرائی اورمارپیٹ کرتے ہوئے دوکانداروں کو لیویز تھانہ پر حملہ کرنے کیلئے اکسانے کے ساتھ ساتھ نعرہ بازی کرتے ہوئے لیویز تھانہ کی طرف آرہے ہیں اسی اثناء بوقت تقریباً 4بجے شام لیویز تھانہ کے گیٹ پر ایک بڑی ہجوم غلام اعظم دشتی اور شعیب حجام کی سربراہی میں لیویز تھانہ پہنچ کرلیویز تھانہ کے موجود ملازمان بالاچ ولد امان اللہ، امداد انچارج QRF، ندیم ولد غنی، تنویر ولد حیات اوردیگرلیویز ملازمان پر حملہ آور ہونے کے ساتھ ملزمان بالا کی درج آیف آئی آر پھاڑنے کی کوشش کی، میں غلام اعظم، شعیب حجام اور اس کے دیگرنامعلوم ساتھیوں کے خلاف دعویدار ہوں کہ انہوں نے ایک سرکاری فورس پر حملہ کرتے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کی، مذکوران کے خلاف برائے رپورٹ تربت تھانہ آیا ہوں، رپورٹ درج کرکے ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے، تربت پولیس کی جانب سے زیردفعات 511، 427، 149، 148،147، 186، 353،352تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ درج کرلیاگیا، مقدمہ کی تفتیش پر پولیس انسپکٹر نوربخش کومامور کردیاگیا ہے۔


