تعلیم دشمن بلوچستان یونیورسٹیز ماڈل ایکٹ منظور نہیں، ہائر ایجوکیشن گرینڈ الائنس

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان ہائر ایجوکیشن گرینڈ الائنس کی جانب سے آج جامعہ بلوچستان میں اساتذہ، آفیسرز اور ملازمین نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا جو جامعہ کے مختلف شعبہ جات سے ہوتا ہوا وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے جلسہ میں تبدیل ہوا، جس سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، فریدخان اچکزئی، ارسلان احمد شاہ، ملک سرور دہوار، حافظ عبدالقیوم اور سیدشاہ بابر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے بڑی عجلت اور بنیادی اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے بغیر صوبے کی تمام سرکاری جامعات کیلئے صوبہ و تعلیم دشمن بلوچستان یونیورسٹیز ماڈل ایکٹ 2022ء پاس کرایا جس کی پالیسی ساز اداروں خصوصا سنڈیکیٹ، سینٹ، اکیڈمک کونسل اور فنانس اینڈ پلاننگ و دیگر میں اساتذہ، آفیسرز، ملازمین اور طلبا وطالبات کی منتخب نمائندگی یکسر ختم کی جس سے جامعات کو ون مین شو کی بنیاد پر آمرانہ طرز پر چلایا جائے گا، جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ صوبے کی سرکاری جامعات کو فنڈز فراہم کرے لیکن صوبائی حکومت نے پچھلے تین سال سے جامعات کی گرانٹس ان ایڈز میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں کیا، مقررین نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت صوبے کی سرکاری جامعات کی گرانٹس ان ایڈز، بجٹ میں دس ارب روپے تک کا فوری اضافہ کریں اور صوبے کے کالجز سمیت تعلیمی اداروں پر مسلط لازمی تعلیمی خدمات 2019ء کا کالا قانون فوری طور پر ختم کردے۔ احتجاجی تحریک کے سلسلے میں بروز، بدھ کو سائنس کالج اور جمعرات کو بڑا احتجاجی مظاہرہ پریس کلب کوئٹہ کے سامنے ہوگا اور عید کے بعد صوبائی اسمبلی کے ممبران، سیاسی جماعتوں، طلبا تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو تفصیلی بریفنگ دی جائے گی اور پھر بھی مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں