یونانی سرحدی محافظوں نے مبینہ طور پر ایک پاکستانی تارکین وطن کو گولی مار دی

بین الاقوامی تحقیقاتی ٹیموں نے اس الزام کی تائید کی ہے کہ چار مارچ کو ترکی اور یونان کی مشترکہ سرحد پر یونانی سرحدی محافظوں کی فائرنگ سے ایک تارکین ہلاک ہو گیا تھا۔رواں برس مارچ کے آغاز میں ترکی اور یونان کی مشترکہ سرحد پر ہزاروں مہاجرین یورپی یونین میں داخل ہونے کی کوشش جاری رکھے ہوئے تھے۔
یونانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے پناہ کے متلاشی افراد کو طاقت کے زور پر یونانی سرحدوں میں داخلے سے روکنے کی کوششوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی تھیں۔ اس دوران ترک حکام نے بتایا تھا کہ یونانی سرحدی محافظوں نے ایک شخص کو ہلاک اور بعض تارکین وطن افراد کو زخمی کردیا ہےتاہم یونانی حکام کی جانب سے اس الزام کی تردید کی گئی تھی۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق یونانی حکومت کے ترجمان اسٹیلیو پیٹساس نے ایک تحریری بیان میں کہا، ’’ترکی کے لیے نا درست اطلاعات کی مہم چلانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘ ڈی پی اے کی اطلاعات کے مطابق یونانی سرحد کے محافظوں نے تارکین وطن کو پیچھے دھکیلنے کے لیے آنسو گیس کا بھی استعمال کیا تھا
لیکن، ایتھنز حکومت کے بیان کے برعکس جمعہ آٹھ مئی کو جرمن جریدے ’ڈئیر اشپیگل‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ یونانی سکیورٹی فورسز نے زور دار فائرنگ کی تھی۔


